رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 559
559 پچتاؤ کیا لفظ بولا تھا میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جو یہ کہا تھا کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے نے اپنے باپ سے مدینہ کے دروازہ پر جو یہ برتاؤ کیا تھا اس کو انہوں نے پچتاؤ سمجھا ہے۔تب میں نے کہا کہ میں نہ پچھتاؤ نہیں برتاؤ کہا تھا اور اس کے معنے سلوک کے ہیں اس پر انہوں نے کہا کہ یہ برتاؤ برتاؤ کیا ہوا۔اس پر میرے پیچھے بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے جس کے لہجہ سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ یوپی کے ہیں کہا کہ " برتاؤ کالفظ " سلوک" کے معنوں میں اردو میں استعمال ہوتا ہے چنانچہ اشرف شاعر نے بھی اس کو استعمال کیا ہے پھر انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا مرزا صاحب آپ اشرف کے شعروں کو پسند کرتے ہیں میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ اشرف کوئی بڑا شاعر ہے اور میں اس کو جانتا ہوں اور اس کے شعروں کو پسند کرتا ہوں اس پر میں نے کہا ہاں میں اس کے شعروں کو پسند کرتا ہوں اس پر انہوں نے اس کے ایک دو شعر پڑھے جن میں برتاؤ " معنے سلوک کے آتا تھا اس کے بعد مجلس برخواست ہوئی میں جب اٹھا تو دیکھا کہ میرے پیچھے تین چار یوپی کے معزز شعراء بیٹھے ہیں انہوں نے مجھے اٹھتے ہوئے دیکھ کر سر جھکا کر ہاتھ ہلا کر آداب عرض کیا جیسا کہ یوپی کا دستور ہے میں نے بھی ان کے سلام کا جواب دیا اور باہر کی طرف چل پڑا۔تھوڑی دور جا کر مجھے محسوس ہوا کہ میری سوئی میرے ہاتھ میں نہیں ہے اور میں اس شبہ میں پڑ گیا کہ سوئی گھر سے ساتھ لایا تھا یا نہیں۔اس خیال سے کہ میں پوری تحقیق کرلوں میں واپس لوٹاتو میں نے نیر صاحب کو آتے دیکھا ان کے کندھے پر برساتی کوٹ پڑا ہوا ہے اور بازو پر کہنی کے مقام پر دو تین سو نٹیاں لٹکی ہوئی ہیں مگر ان میں میری سوئی نہیں ہے اس پر میں ان کو لے کرنذ کو رہ بالا کمرہ میں آیا اور سوئی تلاش کرنی شروع کی۔ابھی سوئی تلاش ہی کر رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی۔الفضل 12۔اکتوبر 1954 ء صفحہ 4-3 وو 594 اکتوبر 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک چبوترہ پر بیٹھا ہوں اتنے میں چبوترہ کے نیچے دامن میں ایک مجھے نظر آیا جو سر سے پیر تک ایک سفید چادر میں لپٹا ہوا تھا اور دو تین پگڑیوں کے برابر ایک سفید پگڑی اس نے باندھی ہوئی تھی اس نے مجھے کہا کہ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں میں کچھ گھبرا سا گیا اور حیران سا ہوا کہ یہ شخص پہرہ داروں کی موجودگی میں گھر میں کیسے گھس آیا ہے اور