رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 425

425 فرمایا : اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء نذیر ہوتے ہیں مگر نذیر خدا تعالیٰ بھی ہوتا ہے۔یہاں نذیر سے مراد خد اتعالیٰ ہے۔کیونکہ وہ خوش خبریاں بھی دیتا ہے اور تنبیہہ بھی کرتا ہے سرزنش بھی کرتا ہے اور اپنے بندوں کو ہو شیار بھی کرتا ہے پس میں نے اس رویا کی یہ تعبیر کی کہ جماعت پر بعض ابتلاء آئیں گے جن کے دور کرنے کے لئے جماعت کو صدقہ دینا چاہئے۔میری جب آنکھ کھلی اس وقت میں نے تین ہزار پانچ سو پونڈ کا اندازہ باون ہزار روپیہ کا لگایا لیکن جب حسابی طور پر اس کا اندازہ لگایا تو یہ رقم اڑتالیس ہزار روپیہ کے قریب ہوتی ہے اور رویا میں میں نے وہ رقم جو نذیر کو دی ہے اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ ہمیں یہ رقم خداتعالی کی راہ میں خرچ کرنی چاہئے اور پھر خواب میں وہ رقم نذیر کو نہیں دی گئی اس کی بیوی کو دی گئی ہے اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ صدقہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں جاتا اس کے بندوں کے پاس جاتا ہے جیسے بیوی اپنے بندے کے تابع ہوتی ہے اس طرح خداتعالی کے بندے بھی اس کے تابع ہوتے ہیں۔الفضل 16۔فروری 1949ء صفحہ 3 473 مارچ 1949ء فرمایا : کچھ دن ہوئے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور اس دالان میں سے نکلا ہوں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی زندگی کے آخری ایام میں رہا کرتے تھے اور جس کے جنوب میں دارالفکر کا کمرہ لگتا ہے جس میں سے ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں تشریف لے جایا کرتے تھے میرے ساتھ ہی اس کمرہ میں سے حضرت خلیفہ اول بھی نکلے ہیں پہلے حضرت خلیفہ اول اس رستہ کی طرف سے تشریف لے گئے جس سے مسجد مبارک کے شمال مشرقی دروازہ کی طرف جاتے ہیں اور میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا اس رستہ کے دروازہ کے پاس پہنچ کر حضرت خلیفہ اول مڑے اور مجھے سینہ سے لگالیا اور میرے ماتھے کو آپ نے بوسہ دیا اور پھر فرمایا " الفضل سے فن کار کا تعلق تھا تو اور بات تھی اب اور بات ہے میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ فن کار سے آپ کا اشارہ میری طرف ہے اور یا تو آپ کا یہ اشارہ ہے کہ الفضل میں کچھ دنوں سے میرے مضامین شائع نہیں ہوتے یا یہ کہ ابتدائی الفضل کی طرف اشارہ ہے جب میں اس کا ایڈیٹر ہوا کرتا تھا۔الفضل یکم اپریل 1949ء صفحہ 2