رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 392

392 رہتے ہیں اور دوسرا کمرہ انہوں نے اپنے لئے رکھا ہوا ہے اور یہ نوکروں کے کمرہ میں ان پر سختی کرنے کے بعد دوسرے کمرہ میں چلے جاتے ہیں۔معلوم نہیں وہ کمرہ انہوں نے کس غرض کے لئے رکھا ہوا ہے۔اس فقرہ کے اختتام پر بھی اس شخص نے کہا۔توبہ۔تو بہ۔اس کے بعد جب ملک غلام فرید صاحب نے اس کی غلطیوں کے متعلق اس کو سمجھانے پر زیادہ زور دیا تو اس نے کہا یہ واقعی میری غلطی ہے اور میں اب اس لڑکی کے ساتھ صلح کرلوں گا اس پر میں نے کہا اگر تم اس لڑکی کے ساتھ صلح بھی کر لو گے تو تم اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے والے ہو گے کیونکہ وہ لڑکی تمہاری بیوی ہے اور تمہارا اپنی بیوی کو راضی کر کے گھر لے جانا اپنے نفس کے لئے ہے۔اصل چیز تو یہ ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے ساتھ صلح کرو اور اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب کا مضمون تو ظاہر ہے کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب کے داماد کا کیا مطلب ہے۔اس بات کی سمجھ نہیں آسکی میں خواب میں اس شخص کو مولوی سید سرور شاہ صاحب مرحوم کا موجودہ داماد نہیں سمجھتا بلکہ ایک اجنبی آدمی سمجھتا ہوں۔غلام فرید کی تعبیر بھی صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔فرید کے لفظی معنے تو منفرد اور احد کے ہوتے ہیں اور غلام کے معنے عبد کے ہوتے ہیں۔اس طرح غلام فرید کے معنے ہوں گے عبداللہ یا عبد الاحد - بہر حال فرید کے معنے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہی چسپاں ہوتے ہیں یعنی ایسی ہستی جو اپنے کمالات اور خصوصیات کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتی ہو۔اور اس کو ممتاز اور نمایاں حیثیت حاصل ہو۔بعض دفعہ ایک نام بندوں کا بھی ہوتا ہے اور وہی نام خدا تعالیٰ کا بھی ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے (عام طور پر فقیر جب کسی کے پاس جا کر سوال کرتے ہیں تو وہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ دستگیر کے نام ہمیں فلاں چیز دے دو یا فلاں پیر کے نام ہمیں خیرات دے دو۔انہوں نے بعض اصطلاحیں مقرر کی ہوتی ہیں مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ گیسوؤں والے کے نام پر دے دو تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے نام پر کچھ دے دو اور جب انہوں نے خواجہ معین الدین صاحب چشتی کا ذکر کرنا ہو تو وہ ان کا نام نہیں لیتے بلکہ کہتے ہیں خواجہ کے نام پر کچھ دے دو اسی طرح جب انہوں نے عبد القادر صاحب جیلانی کا ذکر کرنا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ دستگیر کے نام پر کچھ دے دو۔غرض انہوں نے ہر بزرگ کے متعلق الگ الگ اصطلاحیں مقرر کی ہوئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ہم نئے نئے اہلحدیث