رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 391
391 ملنے کے لئے آئے ہیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ ظفر سے مراد کامیابی ہوتی ہے اور بشیر سے مراد بشارت ہوتی ہے اس لئے خدا تعالٰی نے کسی فتح اور بشارت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ خودان کو پورا کرنے کے سامان فرمائے۔الفضل 8 اگست 1951ء صفحہ 5 21 جون 1947ء 430 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک مکان اسی قسم کا ہے جیسے فوجی بار کیس ہوتی ہیں یعنی وہ شیڈ سا بنا ہوا ہے اور اس پر ٹین کی چادریں پڑی ہوئی ہیں۔میں اس شیڈ کی طرف گیا وہاں میں نے دیکھا کہ ملک غلام فرید صاحب کھڑے ہیں وہ مجھے بلاتے ہیں اور پاس ہی کھڑے ہوئے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں مولوی سید سرور شاہ صاحب کے اس داماد نے ان کی بیٹی کو چھوڑ دیا ہے اور یہ اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا۔ملک غلام فرید صاحب نے جس شخص کے متعلق کہا ہے کہ اس نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کی بیٹی کو چھوڑ دیا ہے نہ تو اس کی شکل عبدالرحیم صاحب جیسی ہے اور نہ ہی خواب میں اس کو عبدالرحیم سمجھتا ہوں وہ شخص سفید رنگ کا ہے اس کا قد بہت اونچاتو نہیں البتہ درمیانہ قد سے اونچا ہے اور اس نے لباس بھی ایسا پہن رکھا ہے جیسے عام طور پر آسودہ حال تاجر پہنا کرتے ہیں اور وہ مکان جس میں ہم کھڑے ہیں وہ اس قسم کا ہے جیسے پہاڑوں پر دکانوں کے آگے شیڈ سے بنے ہوتے ہیں۔ملک غلام فرید صاحب اس طرز میں بات سناتے ہیں کہ ایک طرف تو اس کی غلطیاں بیان کر رہے ہیں کہ اس نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کی لڑکی کو چھوڑ دیا ہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا اور دوسری طرف اس کی دل جوئی بھی کر رہے ہیں کہ غلطیاں بیان کرنے کی وجہ سے وہ کچھ برا محسوس نہ کرے بہر حال ملک غلام فرید صاحب نے اس سلسلہ کلام کو اس طرح شروع کیا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اسی قسم کی اور بہت سی باتیں انہوں نے کیں جو اس وقت مجھے یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ جب ملک غلام فرید صاحب بات کرتے ہیں تو وہ شخص ان کے ہی ہر فقرہ کے ختم ہونے پر کہتا ہے۔تو بہ۔تو بہ۔باتیں کرتے کرتے ملک غلام فرید صاحب نے مسکرا کر کہا۔انہوں نے دو کمرے رکھے ہوئے ہیں ایک کمرے میں ان کے ملازم اور نوکر چاکر