رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 304
۔304 ہے اس بناء پر میں کہتا ہوں میں نے خواب میں مولوی محمد یچی صاحب دیپ گراں والوں کا نام لیا تھا۔اس موقع پر میں اس واقعہ کو خواب سمجھنے لگ جاتا ہوں اور یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ خواب تھی جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نتائج کے لحاظ سے اس خواب کو اچھا سمجھتے ہیں یا تو اس بناء پر کہ ایک شخص نے حملے کئے اور میں محفوظ رہا ان حصوں کی بناء پر جو مجھے اس وقت یاد تھے اب یاد نہیں آپ کچھ مسکرائے اور کچھ اس پر اظہار اطمینان فرمایا کہ اچھی خواب ہے۔اس کے بعد میرا ارادہ یہ ہوا کہ یہ دوسرے حصہ میں گھر کی طرف جاؤں جہاں مستورات ہیں میں نے پاؤں میں جوتا پہننا چاہا ہے جو مجھے انگریزی بوٹ معلوم ہوتا ہے میں جب جو تا پکڑنے اور اس کو پاؤں کے قریب کرنے کے لئے جھکا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی تیزی سے جھک کر ایک پاؤں جوتے کا میرے پاؤں کے آگے کرنا چاہا۔مجھ پر اس وقت بڑی ندامت اور شرمندگی کے آثار ظاہر ہوئے اور میں نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر بوٹ کا ایک پاؤں جو آپ کے ہاتھ میں تھا لے لیا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرا پاؤں جلدی سے اپنے قریب کر لیا تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہیں اس کے متعلق بھی ہاتھ بڑھانے کا خیال نہ فرمائیں جب میں بوٹ پہن کر کھڑا ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کھڑے ہو کر دروازہ کے پاس تشریف لے آئے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی کمرہ سے باہر تشریف لانا چاہتے ہیں اس پر میں نے آپ کی طرف دیکھا اور عرض کیا کہ آپ تشریف لے چلیں مگر آپ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور ہاتھ سے میری طرف اشارہ کیا کہ تم پہلے چلو اس پر پھر میرے دل میں نہایت ہی ندامت اور حیا پیدا ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے آگے چلنے کے لئے فرما رہے ہیں اور میں نے عاجزانہ طور پر خواہش کی کہ آپ پہلے تشریف لے چلیں مگر میرے اس اصرار پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جگہ پر کھڑے رہے اور پھر جلدی سے ہاتھ آگے کو مارا کہ پہلے تم چلو چنانچہ میں کمرے سے باہر آگیا اور پیچھے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کمرہ سے نکلے۔باہر آکر میں نے وہی خواب کسی شخص کو سنانا شروع کیا ور اسی میں میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 22۔جنوری 1946ء صفحہ 2 -1