رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 300

300 373 نومبر 1945ء فرمایا : دیکھا کہ میں عربی بلاد میں ہوں اور ایک موٹر میں سوار ہوں ساتھ ہی ایک اور موٹر ہے جو غالبا میاں شریف احمد صاحب کی ہے پہاڑی علاقہ ہے اور اس میں کچھ ٹیلے سے ہیں جیسے پہلگام کشمیر یا پالم پور میں ہوتے ہیں۔ایک جگہ جا کر دوسری موٹر جو میں سمجھتا ہوں کہ میاں شریف احمد صاحب کی ہے کسی اور طرف چلی گئی اور میری موٹر ایک طرف۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری موٹر ڈاک بنگلہ کی طرف جارہی ہے۔بنگلہ کے پاس جب میں موٹر سے اترا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے عرب جن میں کچھ سیاہ رنگ کے ہیں اور کچھ سفید رنگ کے میرے پاس آئے ہیں۔میں اس وقت اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف جانا چاہتا ہوں لیکن ان عربوں کے آجانے کی وجہ سے ٹھہر گیا ہوں۔انہوں نے آتے ہی کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا سَيِّدِی۔میں ان سے پوچھتا ہوں مِنْ اَيْنَ حِلْتُم کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں وہ جواب دیتے ہیں حقنَا مِنْ بِلادِ الْعَرَبِ وَذَهَبْنَا إِلَى قَادِيَانَ وَ عَلِمْنَا أَنَّكَ سَافَرْتَ فَاتَّبَعْنَاكَ حَتَّى عَلِمْنَا أَنَّكَ حقتَ إِلَى هَذَا الْمَقَامِ یعنی ہم قادیان گئے اور وہاں معلوم ہوا کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں اور آپ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں۔اس پر میں نے ان سے پوچھا لِاَتِي مَقْصَدٍ حِفْتُم کس غرض سے آپ تشریف لائے ہیں تو ان میں سے لیڈر نے جواب ديا كه حِقْنَا لِنَسْتَشِيرَكَ فِى الْأُمُورِ الْاِقْتِصَادِيَّةِ وَالتَّعْلِيمِيَّةِ اور غالبا سیاسی اور ایک اور لفظ بھی کہا۔اس پر میں ڈاک بنگلہ کی طرف مڑا اور ان سے کہا کہ اس مکان میں آجائیے وہاں مشورہ کریں گے جب میں کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میز پر کھانا چتا ہوا ہے اور کرسیاں لگی ہیں اور میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی انگریز مسافر ہوں ان کے لئے یہ انتظام ہو اور میں آگے دوسرے کمرے کی طرف بڑھا وہاں فرش پر کچھ پھل اور مٹھائیاں رکھی ہیں اور ارد گرد اسی طرح بیٹھنے کی جگہ ہے جیسا کہ عرب گھروں میں ہوتی ہے میں نے ان کو وہاں بیٹھنے کو کہا اور دل میں سمجھا کہ یہ انتظام ہمارے لئے ہے ان لوگوں نے وہاں بیٹھ کر پھلوں کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔اس رویا سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلاد عرب میں احمدیت کی ترقی کے