رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 211
211 ہے اور پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور میرے بندے کی مدد کرو چنانچہ ہم آتے اور اسے زور سے مار کر پرے ہٹا دیتے ہیں چنانچہ یہ کہتے ہی اس۔نے زور سے اس بلی کو جھٹکا دے کر علیحدہ کیا کہ اس کا سر ایک دیوار سے ٹکرایا اور معلوم ہوا جیسے اس کا سر شیخ دیا گیا ہے۔الفضل 23۔جون 1944ء صفحہ 21 ایریل 1944ء 279 فرمایا : ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ شیطان میرے پاس آیا ہے اور اس نے شدت سے میرا گلا گھوٹنا شروع کر دیا ہے لیکن میں اسے مارتا ہوں ہٹاتا ہوں مگر وہ کسی طرح بھی ہٹنے میں نہیں آتا۔آخر میں لاحول پڑھتا ہوں جس سے وہ کمزور ہو کر الگ ہو جاتا ہے مگر پھر مجھ پر حملہ کر دیتا ہے میں پھر لا حول پڑھتا ہوں تو وہ پھر علیحدہ ہو جاتا ہے مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ سہ بارہ مجھ پر حملہ کر دیتا ہے اس پر خواب میں ہی کہتا ہوں آؤ۔اب اَعُوذُ پڑھیں چنانچہ میں اَعُوْذُ پڑھتا ہوں تو شیطان بھاگ جاتا ہے۔فرمایا : پہلی رؤیا سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ شیطان فرشتوں کا تابع ہے ایسی زبردست چیز نہیں جو ان کے قبضہ سے باہر ہو پس جو ملائکہ سے تعلق پیدا کرے اس میں شیطان کے مقابلہ کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ملائکہ اس کی مدد کرتے ہیں۔فرمایا : اَعُوذُ سے میں لاحَولَ کا ذکر اس لئے بہتر خیال کرتا ہوں کہ اَعُوذُ میں انسان کہتا ہے میں ایسا کرتا ہوں گو یا کسی قدر انانیت اس میں پائی جاتی ہے مگر لاحول میں کوئی انانیت نہیں پائی جاتی بلکہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے عجز اور اپنی بے کسی کا کامل طور پر اعتراف کرتا ہے پس عقلی طور پر میں اب بھی لاحول کو اَعُوذُ سے بڑھ کر سمجھتا ہوں مگر رویا میں جہاں لا حول بیکار ہو ا وہاں اَعُوذُ سے فائدہ ہوا۔الفضل 23 جون 1944ء صفحہ 2۔نیز دیکھیں۔الفضل 6۔نومبر 1948ء صفحہ 163 اکتوبر 1962ء صفحہ 3 280 اپریل 1944ء فرمایا : میری عادت نہیں کہ میں کسی کے متعلق بددعا سے کام لوں چاہے کوئی کیسا ہی شدید دشمن