رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 160

160 اونچے ہوتے ہیں اسی طرح اس کی دیوار زمین سے پینتیس چالیس فٹ اونچی ہے میں نہیں جانتا کہ میں اس میں سے کس طرح نیچے اترا۔بہر حال میں اس جہاز پر سے ہلکے پھلکے طور پر اترا ہوں اور پانی میں سے جو مخنوں تک ہے چل کر اس دری کی طرف گیا ہوں جہاں وہ نوجوان بیٹھا ہے اور جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ ملک غلام فرید صاحب ہیں یا ڈاکٹر غلام احمد صاحب ہیں دونوں میں سے کسی ایک کا مجھے شبہ پڑتا ہے وہاں پہنچ کر مجھے اس نوجوان کے چہرے پر بڑی افسردگی نظر آتی ہے جب میں نے افسردہ دیکھا تو مجھ میں ایک جلال سا پیدا ہو گیا ہے اور میں اس نوجوان سے کہتا ہوں کہ تم افسردہ کیوں ہو اس وقت میری طبیعت پر اثر یہ ہے کہ قادیان سے کچھ لوگ چلے گئے ہیں میں نہیں کہہ سکتا کہ اس سے میری کیا مراد تھی کیونکہ رویا میں میرا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ ” چلے گئے " سے یہ مراد ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں یا یہ مراد کہ کچھ لوگ مرتد ہو گئے ہیں رویا کے وقت قلب میں اس کے متعلق وضاحت نہیں ہوئی۔” چلے گئے " سے مراد اگر یہ ہو کہ کچھ لوگ فوت ہو گئے ہیں تو ممکن ہے اس سے میر محمد اسحاق صاحب او ر ام طاہر کی وفات کی طرف اشارہ ہو یا شاید بعض اور موتیں خدا تعالیٰ کے نزدیک مقدر ہوں بہر حال میری طبیعت پر اس وقت اثر یہ ہے کہ کچھ لوگ قادیان سے چلے گئے ہیں میں کہہ نہیں سکتا کہ چلے جانے سے مراد اگلے جہان جانا ہے یا شاید اس سے مرتد ہو نا مراد ہے لیکن میں اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ قادیان سے پہلے گئے ہیں اور اس وجہ سے اس نوجوان کے دل پر افسردگی چھائی ہوئی ہے وہ ایک ہی آدمی ہے۔اس کے علاوہ مجھے کوئی اور شخص نظر نہیں آتا جب میں اس کے چہرہ پر افسردگی دیکھتا ہوں تو میں بڑے جلال میں اس نوجوان سے کہتا ہوں تم افسردہ کیوں ہو اس کے بعد میں بڑے جوش سے کہتا ہوں دیکھو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہماری جماعت کے لئے خصوصاً قادیان کے لئے ایک بڑا بھاری اور عظیم الشان مستقبل مقدر ہے۔اس لئے افسردگی کی کوئی وجہ نہیں۔گویا خواب میں جو میں اس نوجوان کو اس وجہ سے افسردہ دیکھتا ہوں کہ قادیان سے کچھ لوگ چلے گئے ہیں تو میں اس کی افسردگی کو دور کرنے کے لئے کہتا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہماری جماعت کے لئے خصوصاً قادیان کے لئے ایک بڑا بھاری مستقبل مقدر ہے۔جب میں نے یہ الفاظ کہے تو وہ نوجوان اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور میں اس کو اپنے ساتھ لے کر ایک طرف چل پڑا۔میں نے دیکھا کہ