رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 112

112 وجہ سے نمی تک نہیں آئی تھی۔اس کے بعد یکدم حالت بدل گئی میں سمجھتا ہوں اس کشف کی تعبیر یہ ہے کہ ہمارے قلوب کو اللہ تعالیٰ کسی اپنے پیارے بندے کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے ٹھنڈک پہنچائے گا۔ولی اللہ کا بھیجنا، غلام نبی کا لانا رشیدہ بیگم (جو میری بڑی بیوی کا نام ہے) کا پکڑنا اور محمود کے ہاتھ میں دینا ایک عجیب پر معنی سلسلہ ہے جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔قدرتی برف سے یہ مراد ہے کہ یہ سامان تسکین کے غیب سے پیدا ہوں گے اور اس کا نہ پچھلنا جتاتا ہے کہ تسکین مستقل ہو گی اور عارضی نہ ہو گی۔الفضل 18۔نومبر 1934ء صفحہ 6 مجھو 189 24 یا 25 دسمبر 1934ء فرمایا : 24 یا 25 دسمبر کی شب کو میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جلسہ کے ایام میں مجھ پر حملہ کیا جائے گا اور بعض کہتے ہیں کہ موت انہی دنوں میں ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ ہے جس سے میں یہ بات پوچھتا ہوں اس نے کہا کہ میں نے تمہاری عمر کے متعلق لوح محفوظ دیکھی ہے آگے مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ اس نے کہا میں بتانا نہیں چاہتا یا بھول گیا ہوں زیادہ تر یہی خیال ہے کہ اس نے کہا میں بتانا نہیں چاہتا لیکن جلسہ کی یا بعد کی دو تاریخیں ملا کر اس نے کہا کہ ان دنوں میں یہ بات یقیناً نہیں ہو گی۔اس دن سے میں نے تو بے پرواہی شروع کر دی اور اگرچہ دوست کئی ہدایتیں دیتے رہے کہ یوں کرنا چاہئے کوئی حرج نہیں۔الفضل 17۔جنوری 1935ء صفحہ 8 جنوری 1935ء 190 فرمایا : چند دن ہوئے میں نے ایک رویا دیکھا ہے جس کا مجھ پر اثر ہے اور اس سے مجھے خیال آیا کہ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاؤں کہ وہ ہمیشہ اصل مقصود کو مد نظر رکھیں۔میں نے دیکھا کہ ایک پہاڑی کی چوٹی ہے جس پر جماعت کے کچھ لوگ ہیں میری ایک بیوی اور بعض بچے بھی ہیں۔وہاں جماعت کے سرکردہ لوگوں کی ایک جماعت ہے جو آپس میں کبڈی کھیلنے لگے ہیں جب وہ کھیلنے لگے تو کسی نے مجھے کہا یا یو نہی علم ہوا کہ انہوں نے شرط یہ باندھی ہے کہ جو جیت جائے گا خلافت کے متعلق اس کا خیال قائم کیا جائے گا۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس فقرہ کا مطلب یہ تھا