رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 404
404 وآلہ وسلم نے اس کے کیا معنے بیان فرمائے ہیں اور وہ سنے تمہارے مفہوم کی تائید میں ہیں یا اس کے مخالف ہیں اگر احادیث نبوی تمہارے معنوں کی تائید میں ہیں تو وہ درست ہیں اور اگر وہ غیر کی تائید میں ہیں تو اس کے معنے درست ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر تمہارا اختلاف دور نہ ہو تو اولی الامر کی طرف اس تنازع کو لوٹاؤ اس تفسیر کے لحاظ سے أولى الأمرِ مِنْكُمْ کے ایک نئے معنے اس وقت میں کرتا ہوں عام طور پر اس آیت میں ہم اولی الامر کے اور معنے کیا کرتے ہیں اور وہ معنے بھی اس جگہ درست ہیں لیکن اس وقت میں یہ معنے کرتا ہوں کہ اولی الامر سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو خد اتعالیٰ اپنے الہام کے ذریعہ سے معانی سمجھاتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ خدا اور رسول کے بعد تم اس شخص کی طرف رجوع کر دیا اس کی کتابیں پڑھو۔جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے کلام الہی کے معنے سمجھائے ہوں۔یہ مضمون ہے جو خواب میں میں نے بیان کیا۔اس کے بعد خواب کی حالت بدل گئی اسی دوران ایک معترض بھی اٹھا اس نے بعض اعتراضات کئے مگر اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں بسر حال میں نے تین اصول قرآن کریم کی تفسیر کے بیان کئے ہیں۔الفضل 9۔دسمبر 1947ء صفحہ 4-3 447 30 31 دسمبر 1947ء مایا : دو تین دن کی بات ہے مجھے الہام ہوا جس کی عبارت کچھ اس قسم کی تھی کہ إِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ اللَّهُ الَّذِينَ* اس سے آگے کی عبارت یاد نہیں رہی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی انہی کی دعائیں قبول کرتا ہے۔الفضل 4۔فروری 1948ء صفحہ 6 448 2 جنوری 1948ء فرمایا : آج سورۃ الرحمن کی بہت سی آیتیں متواتر میری زبان پر جاری ہوئیں جن میں سے کچھ تو مجھے یاد نہیں رہیں مگر یہ فقرہ جو بار بار جاری تھا مجھے یاد ہے کہ قرآن مجید میں اس مضمون کی آیت یوں ہے وَيَسْتَجِيْبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصَّلِحَتِ (الشورى) یعنی اللہ تعالی ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے (مرتب)