رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 386
386 کہ میں نے غلطی کی تھی۔پھر میں نے اس سکھ سے کہا کہ جب سردار کرپال سنگھ کے بڑے بھائی کھڑے ہوئے تو انہوں نے بھی ہم سے کوئی مدد نہ چاہی اور ہمارے ساتھ تعلق نہ رکھا اس کے بعد میں نے کسی سے کہا کہ جماعت کھو کھر کو بلاؤ۔کھو کھر کی جماعت کے بہت سے آدمی اس کمرہ میں آگئے۔ویسے تو جہاں تک میرا علم ہے کھو کھر کی جماعت کے آدمی تھوڑے ہیں مگر خواب میں میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے آنے سے کمرہ بھر گیا اور ان کی تعداد اتی اور سو (۱۰۰) کے در میان معلوم ہوتی ہے۔میں نے ان سے پوچھا۔آپ کے کتنے ووٹ ہیں ان میں سے ایک بوڑھے نے کسی احمدی کا نام لے کر کہا اس کا ایک ووٹ ہے اس کے بعد اس نے بیل بیل کا لفظ متواتر بولنا شروع کر دیا۔میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ یہ شخص مجلس میں بولنے سے گھبرا رہا ہے پھر وہی شخص کوئی نام لیتا ہے اور اس کے بعد پھر بیل بیل کہنا شروع کر دیتا ہے اس پر میں نے اس بڑھے سے کہا آپ ایک طرف ہو جائیے میں دوسروں سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اتنا کہنے کے بعد پھر مجھے خیال آیا کہ اس بڑھے سے تو پوچھنا چاہئے کہ بیل بیل کہنے سے اس کی کیا مراد ہے چنانچہ میں نے بڑھے کو بلا کر پوچھا کہ آپ بیل بیل کیا کہہ رہے تھے اس بڑھے نے عجیب بات سنائی اور اس وقت یوں معلوم ہونے لگا کہ بڑھا گھبراتا نہیں ہے اور اب اس کو اپنے نفس پر قابو ہے۔بڑھے نے کہا ہمارا ایک آدمی ہے اس کو کہیں گرنے سے ہونٹوں پر چوٹ لگ گئی اور اس کے ہونٹ بہت موٹے اور بھرے ہو گئے تھے جس کی وجہ سے اس کو بیل کے نام سے پکارا جاتا ہے گویا اصل نام اس کا اور ہے مگر ہونٹوں کی نسبت سے اس کی آئی بیل پڑگئی (جیسے عام طور پر کسی لیے آدمی کو لمبو اور چھوٹے قد والے کو ٹھگنا یا گٹھ مٹھیا کہہ دیتے ہیں) جب وہ بڑھا بیل کے لفظ کی تشریح کر رہا تھا تو وہ سکھ بیچ میں بول پڑا اور اس نے کہا کہ سردار صاحب آپ کا شکریہ ادا کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ میں جماعت احمدیہ قادیان اور جماعت احمد یہ لاہور کا بھی ممنون ہوں۔یہ سن کر ہماری جماعت کے دوستوں کو غصہ آیا اور ان میں سے کسی نے کہا کہ ووٹ تو سارے ہمارے ہیں۔ان کا کیا ہے ہمارے پندرہ ہزار ووٹ ہیں اور ان کے پندرہ سو بھی نہیں۔اس وقت خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ بٹالہ کے علاقہ میں ہماری جماعت کے ووٹوں کا اندازہ پندرہ ہزار ہے۔اس کے بعد اس سکھ نے نوٹوں کا ایک گٹھا میری چارپائی پر رکھ دیا جیسے کوئی ہدیہ پیش کرتا ہے مجھے خواب میں خیال گزرتا ہے کہ نوٹوں کا گٹھا اس لئے پیش کر رہا ہے کہ لوگوں کی