رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 314
314 ہوئے اس پر میں نے کہا کہ سپاہیو! میں تمہارا کمانڈر ہوں۔تمہارا فرض ہے کہ میری اطاعت کرو اور میرے پیچھے چلو تب میں نے ان سے کچھ اور چہروں پر شناخت اور اطاعت کا اثر دیکھا اور ں ان سے کہا کہ بلند آواز سے نعرہ تکبیر لگاؤ اور پھر اپنی عادت کے خلاف نہایت بلند آواز سے پکارا۔اللہ اکبر۔جب میں نے یہ نعرہ لگایا تو گویا ساری فوج کے دل دہل گئے اور سب نے نہایت زور سے گرجتے ہوئے بادلوں کی طرح اللہ اکبر کہا اور ساری فضا نعروں سے گونج گئی تب میں نے انہیں کہا میرے پیچھے چلے آؤ اور خود آگے کو چل پڑا اس وقت میں نے دیکھا کہ تمام فوج میرے پیچھے قطاریں باندھ کر چل پڑی۔اس وقت ان میں جوانی اور رعنائی اپنی پوری طاقت پر معلوم ہوتی ہے۔ان کے بھاری قدم جو وہ جوش سے زمین پر مارتے تھے۔یوں معلوم ہو تا تھا کہ زمین کو ہلا رہے ہیں اور زمین پر ایک کامل سکوت کے درمیان اس فوج کے قدموں کی آواز جو میرے پیچھے چلی آرہی تھی عجیب موسیقی سی پیدا کر رہی تھی۔میں سڑک پر ان کو ساتھ لئے ہوئے چلا گیا۔یہ سڑک ایک ٹیلے کے گرد خم کھا کر گزرتی تھی جب اس ٹیلے کے پاس سے وہ سڑک مڑی تو میں نے دیکھا کہ کوئی ڈیڑھ منزل کے قریب بلندی پر ایک وسیع کمرہ ہے اور اس کے اندر بہت سے لوگوں کا ہجوم ہے اور وہ بھی احمدی فوج کے آدمی ہیں اور گویا اسی جھگڑے کے فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں میرے ہمراہیوں میں سے ایک شخص دوڑ کر اوپر چڑھ گیا اور اوپر جا کر جو ان کا افسر دروازہ پر کھڑا تھا اسے اس نے سمجھانا شروع کر دیا کہ یہ جماعت کے کمانڈر ہیں اور انہوں نے جرنیلوں کی غلطی کی وجہ سے خود کمان سنبھال لی ہے اور گویا دوبارہ دنیا میں آگئے ہیں۔وہ شخص جسے میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ چوہدری مولا بخش صاحب مرحوم سیالکوٹی ہیں (ڈاکٹر میجر شاہ نواز صاحب کے والد) اس سے کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ درست ہے تو ہمیں پہلے کیوں اطلاع نہیں دی گئی۔میں نے اپنے ساتھی کو روکا اور چوہدری صاحب سے کہا کہ افسر میں ہوں۔یہ میرا کام ہے کہ بتاؤں کہ کب اور کس طرح اطلاع دی جائے (اس وقت میں نے جرنیلوں سے جھگڑے کی تفصیل سے بچنے کے لئے مختصر جواب دیا ہے) پھر کہا کہ میں سیالکوٹ جا رہا ہوں وہاں ہمارے کچھ دوست ہیں آپ لوگ بھی اس فوج میں آملیں۔چوہدری صاحب مرحوم نے اس پر فوری رضامندی کا اظہار کیا اور کمرہ میں ٹھہری ہوئی فوج کو چلنے کا حکم دیا تب میں اس فوج کے پیچھے چل پڑا جو میرے ساتھ تھی اور جسے میں نے گفتگو کے وقت آگے چلنے کا حکم دے دیا تھا اس وقت میں