رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 297
i 297 ہوتے ہیں۔میں مل رہا ہوں کہ اتنے میں اس کمرہ کا مغربی دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک شخص داخل ہوا اس کے ہاتھ میں ایک بٹیر ہے جو نہایت کمزور ہے۔جسم پر جو پر ہیں وہ تیتر کی مانند زیادہ سیاہی مائل ہیں اور ان کی رنگت بھورے رنگ کی ہے۔بشیر لمبائی میں تو قریب بٹیر کے ہی ہے مگر چوڑائی میں محض پری کے برابر ہے اور بھوک اور کمزوری کی وجہ سے نہایت مضمحل ہو رہا ہے وہ شخص بیر مجھے دے کر کہتا ہے کہ یہ آپ کا بٹیر ہے جو کچھ دنوں سے گم ہو گیا تھا یہ آپ لے لیں۔میں بھی یہ سمجھ رہا ہوں کہ جیسے یہ بٹیر ہمارا ہے یا ہمارے خاندان میں سے کسی کا ہے یا ہماری جماعت کا ہے بہر حال ہے ہما را چنانچہ میں اس کے ہاتھ سے لے لیتا ہوں اور ام متین کو دے کر کہتا ہوں کہ اس کو کچھ کھلاؤ بھوک کی وجہ سے یہ کمزور ہو گیا ہے شاید یہ بچ جائے مگر یہ سوچ کر کہ شاید ایک دم زیادہ کھلا دینے سے یہ مر نہ جائے میں کہتا ہوں کہ احتیاط سے کھلانا۔پہلے تھوڑا سا کھانے کے لئے اسے دو پھر آہستہ آہستہ جیسے اسے قوت آتی جائے اس کو کھانے کو دیتے جاؤ یہ کہہ کر میں نے پھر ٹھملنا شروع کر دیا اور انہوں نے بٹیر کو دلدل کے کنارے کھڑا کر دیا تاکہ یہ اپنی خواہش کے مطابق خوراک لے لے چنانچہ اس نے اس دلدل میں سے ایک چونچ بھری اور جیسے ہی وہ اس کے گلے کے نیچے گئی بٹیر ایک دم سے بے ہوش ہو کر دلدل کے کنارے گر گیا میں نے ام متین سے کہا کہ میں نے کہا نہیں تھا اسے احتیاط سے کھلانا۔دیکھو ضعف کی وجہ سے اس سے برداشت نہیں ہو سکتا اور اب یہ مر گیا ہے انہوں نے کہا میں نے اسے زیادہ تو نہیں کھلایا۔میں نے تو اسی لئے اسے دلدل میں کھڑا کر دیا تھا تا کہ یہ خود اپنی ضرورت کے مطابق خوراک لے لے اتنے میں وہ بشیر ہوش میں آگیا اور کھڑا ہو گیا اور ایسا معلوم ہوا جیسے غذا کے اندر جانے کی وجہ سے اسے Shock ہوا تھا مگر جب وہ غذا ہضم ہو گئی تو اسے ہوش اور طاقت آگئی اور وہ کھڑا ہو گیا اور جب وہ کھڑا ہوا تو پہلے سے کچھ بڑا معلوم ہو تا تھا۔اس کے بعد میں نے پھر ملنا شروع کر دیا اتنے میں وہ بٹیر اپنی جگہ سے چل کر میز کے دوسرے کنارے پر آگیا۔میری اس طرف پیٹھ تھی کہ ام متین نے آواز دی کہ وہ آپ کی طرف آرہا ہے۔میں مڑا تو دیکھا کہ وہ اڑ کر میرے پاس آنا چاہتا ہے مگر اس کا اڑنا ایسا نہیں جیسے پرندوں کا ہوتا ہے کہ پر پھیلے ہوئے ہوں اور ٹانگیں زمین کی طرف۔وہ اس طرح اڑا ہے جیسے گھوڑا اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور اگلی ٹانگوں کے سم سامنے کی طرف کر لیتا ہے۔وہ اڑا ہے مگر