رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 285
285 اٹھائے اور اپنی برکتوں سے مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ لے یہ دعا اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے بار بار کر رہا تھا کہ آنکھ کھل گئی اور اوپر کے الفاظ الہانا بھی زبان پر جاری تھے۔الفضل 11 اگست 1945ء صفحه1 اوائل اگست 1945ء 35۔7 فرمایا : ایک تمثیلی زبان میں نظارہ دیکھا جس کی یہ تعبیر ہے کہ اللہ تعالی غیر معمولی سامانوں سے جو انسانی طاقت سے بالا ہوں گے جماعت احمدیہ کو جوانی بخشے گا اور اس کی کو شش کو بار آور کرے گا اور روشنی اور تازہ پھل اس کے کاموں کے نتیجہ میں پیدا ہوں گے اور خدا تعالٰی کی نصرت اس کے ذریعہ سے سب جہان کو ملے گی۔الفضل 11 اگست 1945ء صفحہ 1 358 اوائل اگست 1945ء فرمایا : ایک اور نظارہ تمثیلی زبان میں دیکھا جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو وسعت بخشے گا اور علوم و فنون کا سوتا اس کے ذریعہ پھاڑے گا۔الفضل 11 اگست 1948 ء صلح 1 اوائل اگست 1945ء 359 فرمایا : دیکھا کہ ایک جگہ مسٹر گاندھی ہیں اور اخباروں کے نمائندے ان سے انٹرویو کے لئے جا رہے ہیں اور ایک جگہ پر جہاں عام طور پر لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں وہ ان لوگوں سے مل رہے ہیں۔میں نے پہرہ داروں میں سے ایک صاحب جن کا نام محمد اسحاق ہے کہا کہ جاؤ اور اس قسم کا انتظام کرو کہ میں بھی وہاں اس طرح جاسکوں کہ کسی کو میرا علم نہ ہو۔محمد اسحاق نے تھوڑی دیر میں آکر کہا کہ میں نے انتظام کر دیا ہے آپ چلے جائیں میں ایک بند کمرہ میں سے ہو کر اس جگہ گیا ہوں جہاں مسٹر گاندھی ہیں راستہ میں کچھ پہریدار ہیں ان میں سے ایک نے مجھے رو کا لیکن محمد اسحاق نے انہیں یہ کہہ کر ہٹا دیا کہ ان کے لئے اجازت لی ہوئی ہے اس کے بعد میں اندر داخل ہوا یہ ایک صحن ہے اس میں گاندھی جی تکیہ کا سہارا لگائے اپنے معروف لباس میں مغرب کی طرف مونہہ کر کے بیٹھے ہیں سامنے ایک صف اخباری نمائندوں کی ہے۔میں ان میں