رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 77

77 تعبیر الرویا میں بھینس کی تعبیر و بایا بیماری ہوتی ہے اور طاعون سے مراد بھی عام بیماری یا کوئی وہا ہوتی ہے اور طاعون بھی ہو سکتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب اس رنگ میں کوئی اور نشان ظاہر ہو گا۔الفضل 30 نومبر 1923 ء صفحہ 7 - نیز دیکھیں۔الفضل 18۔نومبر 1924ء صفحہ 8 و 19۔مارچ 1925ء صفحہ 8 و 15 جون 1928ء صفحہ 8 و 4۔مارچ 1927ء صفحہ 5 اور الفضل -2 ستمبر 1930ء صفحہ 8 و احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ 119 - 120 132 $1923 فرمایا : مفتی * صاحب (مفتی محمد صادق صاحب ناقل) جب امریکہ سے واپس آئے تھے تو اس وقت میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کہتا ہوں اب مفتی صاحب اور مولوی شیر علی صاحب کو باہر نہیں جانے دوں گا۔رویا میں گو یہ میرا اپنا فقرہ تھا مگر رویا کے اس قسم کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں یہ کام اس قسم کا ہے کہ اگر وہ قلیل سے قلیل عرصہ اس کام میں لگا کر واپس آجائیں تو ان کا وہاں کا قیام بھی قادیان کا قیام سمجھا جائے گا۔الفضل 29۔فروری 1936ء صفحہ 6 28۔دسمبر 1923ء 133 فرمایا : چونکہ میں نے تقریر کے نوٹ پہلے نہیں لکھے تھے اس لئے کل یہاں سے جا کر رات کو دو بجے تک لکھے۔صبح کے قریب مجھے رویا ہوئی کہ کچھ روٹیاں ہیں جو ٹوٹی پڑی ہیں۔میں ناشتہ کرنا چاہتا ہوں مگر خیال آیا گھر کی عورتیں تو جلسہ کے انتظام کے لئے چلی گئی ہیں پھر کس طرح ناشتہ کروں۔اس پر میں نے وہی ٹکڑے لئے کہ ان کا ناشتہ کرلوں۔میں انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر باندھ رہا تھا کہ ایک بڑھیا آئی جو نہایت مکروہ شکل کی تھی اور وہ اس کپڑے کے اندر کوئی چیز رکھنا چاہتی تھی میں نے اسے روکا کہ نہیں رکھنے دوں گا مگر میں جو گرہ دے رہا تھا وہ کھل گئی اور روٹیاں تنگی ہو گئیں۔ان پر پیاز رکھا ہوا تھا اور گٹھے تو نیچے گر گئے چھ (۶) چھوٹے چھوٹے ٹکڑے باقی رہ گئے۔مجھے پیاز سے سخت نفرت ہے مگر اس وقت میں پیاز سے ہی روٹی کھانے کے حضرت مفتی صاحب 4 - دسمبر 1923ء کو امریکہ سے واپس قادیان تشریف لائے (ناقل)