رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 73

73 خانہ کو حملے کا اشارہ کیا۔جونہی کہ میں نے اشارہ کیا گولہ باری شروع ہو گئی۔فصیل بہت چوڑی ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور اس کے اندر مکانات عالیشان اور سنگ مرمر کے بنے ہوئے ہیں۔میرے ساتھ مفتی محمد صادق صاحب اور مرحوم عبدالحی بھی ہیں۔مفتی صاحب نے کہا کہ یہ جگہ تو اس قابل ہے کہ اس میں بیٹھ کر دعا کی جائے۔چنانچہ وہ محل میں دعا کرنے لگے میں ان کو بھی دیکھتا ہوں اور فوج کو بھی گولہ باری کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ہماری جماعت کے آدمی مال غنیمت نکال رہے ہیں ایک بڑا سا بستر عبدالھی مرحوم نے بھی اٹھایا ہوا ہے میں نے اس کے سر سے اتار لیا اور کہا کہ اور لوگ اٹھالائیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ احمدیت کسی سختی کے بعد مانی جائے گی۔الفضل 3۔جولائی 1922ء صلحہ 5 - 6 $1922 126 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں یورپ میں ہوں لیکچر دے رہا ہوں میں کسی کو کچھ سمجھانے لگا ہوں کہ ایک جبہ پوش ہے اس کو یہ فکر ہے کہ کسی پر لیکچر کا اثر نہ ہو جائے۔جگہ یونیورسٹی کی طرح ہے آگے ایک پھاٹک ہے۔وہ پادری آگے آیا مجھے شرمندہ کرنے کے لئے کہتا ہے کہ تمہاری تعلیم کس قدر ہے۔میں نے جواب دیا کہ مسیح سے جس کو تم خدا کا بیٹا کہتے ہو زیادہ میری ہے۔اس پر وہ نہایت شرمندہ ہو کر بھاگا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیت میں گھبراہٹ تو ضرور پڑے گی۔الفضل 4۔مئی 1922ء صفحہ 6 127 3-2- جون 1922ء کی درمیانی رات فرمایا : آج رویا میں میری زبان پر یہ جاری ہو گیا ”آج بہت سی بشارتیں ترقی اسلام کے متعلق ملی ہیں" یہ اصلی الفاظ نہیں بلکہ اس مضمون کا خلاصہ ہے جو میری زبان پر جاری ہوا۔الفضل 17۔جولائی 1922ء صفحہ 5 128 ₤1922 فرمایا : دعا کے اوقات ہوتے ہیں جب چوہدری صاحب (چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے