رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 66

66 مضمون ہے کہ دو قسم کے انسان دنیا میں ہوتے ہیں اول وہ جن کی ذات خدا کو محبوب ہوتی ہے مگر ان کے کام محبوب نہیں ہوتے۔دوم وہ جن کی ذات بھی محبوب ہوتی ہے اور ان کے کام بھی محبوب ہوتے ہیں۔پہلی قسم کے لوگ جن کی ذات تو محبوب ہوتی مگر کام محبوب نہیں ہو تا۔ان کی ذات کی اللہ تعالیٰ حفاظت کرتا ہے مگر کام کی حفاظت نہیں کرتا یعنی ان کا کام مٹ جاتا ہے۔مگر دوسری قسم کے لوگ جن کی ذات اور کام دونوں محبوب ہوتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی ذات کی بھی حفاظت کرتا ہے اور کام کی بھی حفاظت کرتا ہے اگر ان کی ذات پر کوئی حملہ کرے تو اس کو مٹادیتا ہے اور اگر ان کے کام کوئی مٹانا چاہے تو وہ بھی ناکام رہتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کو سزا دیتا ہے۔ان دونوں قسموں کے لوگوں کی مثال میں میں نے کہا کہ پہلی قسم کے لوگوں میں جن کی محض ذات سے محبت تھی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام ہیں ان کی ذات سے خدا تعالیٰ کو محبت ہے اب بھی اگر کوئی شخص ان کی ہتک کا مرتکب ہو تو اس سے خدا تعالٰی مواخذہ کرے گا لیکن ان کے کام ہمیشہ کے لئے نہ تھے اس لئے ان کے کام کی حفاظت اللہ تعالیٰ نہیں کر رہا۔ایک وقت تک ان کا کام مفید تھا، حفاظت کی گئی اب اس کی کوئی حفاظت نہیں۔دوسری قسم میں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کیا اور کہا کہ ان کی ذات اور کام محبوب ہے انکی ذات کی بھی حفاظت اللہ تعالیٰ کر رہا ہے اور ان کے کام کی بھی۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 17۔فوری 1921ء صفحہ 5 اوائل 1921ء 109 فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص خلافت پر اعتراض کرتا ہے۔میں اسے کہتا ہوں اگر تم بچے اعتراض تلاش کر کے بھی میری ذات پر کرو گے تو خدا کی تم پر لعنت ہوگی اور تم تباہ ہو جاؤ گے کیونکہ جس درجہ پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اس کے متعلق وہ غیرت رکھتا ہے۔درس القرآن سورۃ نور و فرقان صفحه 73 مطبوعہ نومبر 1921 ء نیز دیکھیں۔الفضل 29۔مئی 1928 ء صفحہ 2