رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 614
614 اور بڑی دیر تک میرے پاس بیٹھے رہے ہیں کوئی گھنٹہ بھر کے بعد وہ اٹھ کر چلے گئے۔بہاول پور کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں چاچڑاں شریف ہے جس میں نواب صاحب کے پیر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رہتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم مصدقین میں سے تھے۔اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہاول پور میں لوگوں کا رجحان احمدیت کی طرف بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ نواب صاحب کے بعض عزیز بھی جماعت میں شامل ہو گئے ہیں غالبا یہ کشف بھی خدا تعالیٰ نے اس لئے دکھایا ہے نواب صاحب گھنٹہ بھر میرے پاس بیٹھ کر چلے گئے انگریزی حکومت کے زمانہ میں نواب صاحب بہاول پور شملہ میں مجھے ملا کرتے تھے اور چونکہ ان کے پیر حضرت مسیح موعود کے معتقد تھے اس لئے وہ میرا بڑا لحاظ کرتے تھے بعض دفعہ انہیں مشاعرہ میں بلایا جا تا تو میری موجودگی میں مجھ سے پہلے نہیں بیٹھتے تھے بلکہ منتظمین سے کہتے تھے کہ پہلے ان کو بٹھاؤ پھر میں بیٹھوں گا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے علاقہ کو ترقی عطا فرمائے اور نواب صاحب کو تمام مشکلات سے نجات دے۔یہ خاندان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا کی اولاد میں سے ہے اور خلفاء بنو عباس سے اس کا تعلق ہے اس لئے یہ لوگ اب تک انہی کے ناموں پر اپنے شہروں کے نام رکھتے ہیں چنانچہ ہارون آبادان کا ایک پرانا شہر ہے جو خلیفہ ہارون الرشید کے نام پر ہے اس طرح صادق آباد غالبا حضرت امام جعفر صادق کے نام پر ہے کیونکہ حضرت عباس کا حضرت علی سے بھی رشتہ تھا اور وہ اس کا ادب ملحوظ رکھتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی تو اس وقت مدینہ کے لوگوں سے حضرت عباس نے ہی گفتگو کی تھی اور انہوں نے انصار سے کہا تھا کہ تم میرے بھتیجے کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو مگر یاد رکھو کہ اگر یہ تمہارے پاس گیا تو سارا عرب تمہارے مخالف ہو جائے گا پس پہلے اس کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کا عہد کرو اور پھر اسے ساتھ لے جاؤ چنانچہ مدینہ والوں نے اس کا اقرار کیا اور پھر ہمیشہ انہوں نے اس عہد کو نباہا۔حضرت عباس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب کے بیٹے اور حضرت حمزہ اور ابو لہب کے بھائی تھے بہر حال یہ خاندان بنو عباس میں سے ہے اور چاچڑاں شریف وہ مقام ہے جس کے سجادہ نشین حضرت خواجہ غلام فرید صاحب حضرت مسیح موعود علیہ