رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 610

610 645 اکتوبر 1958ء فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے امتہ الحی مرحومہ ربوہ آئی ہوئی ہیں اور اپنے ماموں زاد بھائی پیر مظہر حق صاحب کے گھر میں یا ان کے قریب ٹھری ہوئی ہیں مجھے پیر مظہر حق صاحب کی بیوی ملیں تو میں نے ان سے کہا کہ امتہ الحی سے کہہ دو کہ میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ تم میرے پاس آجاؤ مگر تم نے میری بات نہیں مانی اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ میرے ساتھ چلو ور نہ میں تم سے خفا ہو جاؤں گا۔چونکہ قرآن کریم میں حَتَّی و قیوم صفات اکٹھی آئی ہیں اس لئے امتہ الھی نام میں زندگی کی طرف بھی اشارہ ہے اور قائم رکھنے کی طرف بھی اشارہ ہے پس خواب کی تعبیر کے لحاظ سے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ میری زندگی اور صحت میں بھی برکت دے اور کچھ مالی پریشانیاں جو ہیں ان کو بھی دور کردے۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب الفضل 24 - اکتوبر 1958ء صفحہ 3 646 اکتوبر 1958ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ جیسے اہم ناصر مرحومہ آئی ہیں اور ایک سلیپر کی جوڑی ان کے ہاتھ میں ہے وہ انہوں نے میرے سامنے رکھی اور کہا کہ یہ آپ کو کہیں سے تحفہ آئی ہے کہ آپ یہ چوڑی مبارک احمد کو دے دیں خواب کے بعد میرے ذہن پر کچھ یہ بھی اثر ہوا کہ انہوں نے صدقہ دینے کے لئے کہا ہے اس رویا کے چند دن بعد ہی امریکہ سے ایک دوست نے سلیپروں کی ایک جوڑی تحفہ کے طور پر بھیجی اور میں نے خواب کے مطابق مبارک احمد کو دے دی لیکن گو وہ سلیپر تھے مگر ان کی شکل دیسی نہیں تھی جیسی ام ناصر نے میرے آگے جو تی رکھی تھی ام ناصر نے جو جوتی رکھی تھی وہ ایسی تھی جیسے پرانے زمانہ میں ہندوستان میں عورتوں کی جوتیاں ہوا کرتی تھیں اور اس پر کچھ کام بھی بنا ہوا تھا مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ چند دنوں کے بعد ہی میرا بھتیجا مرزا مجید احمد افریقہ سے آیا تو وہ وہاں سے ایک خاص جوتی بنوا کر لایا جس کی بالکل وہی طرزہ تھی جو کہ پرانے زمانہ میں ہندوستانی عورتوں کی جوتی کی ہوا کرتی تھی اور جس کی ایڑھی دبی ہوئی ہوتی تھی۔چنانچہ خواب کو پورا کرنے کے لئے وہ بھی میں نے مرزا مبارک احمد کو دے دی۔