رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 605
605 ہے کہ مسیح موعود اور آپ کی کچی جماعت بہت اونچی ہو جائے گی اور ٹیلہ پر تو پیغامی بیٹھے ہیں اس وقت مجھے خواب میں یہ یاد نہیں آیا کہ وسط قرآن میں کون سی سورتیں ہیں میں نے یوں ہی اشارہ بات کر دی اس پر حضرت خلیفہ اول نے کہا میاں تم نے ہی اس مسئلہ کے متعلق سوچا ہے تو تم ہی اس پر تقریر کرو اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔اور کئی دن میں سوچتا رہا کہ قرآن مجید کے وسط میں کونسا مضمون ہے جس سے میں نے استدلال کیا تھا لیکن خواب کا یہ حصہ ایسا بھولا کہ کسی طرح یاد نہ آتا تھا آخر ہیں دن کے بعد یہ خواب آئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ قرآن کے وسط میں سورۃ اسراء آتی ہے جس کے مضمون کے متعلق پرانے مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں معراج کا ذکر ہے گو میں اس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ہاں یاد آیا کہ حضرت خلیفہ اول نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یہ بھی خواب میں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اور آپ کی مخلص جماعت کے لئے اتنے اونچے جانے کی خبر دی گئی ہے یعنی آسمان تک بلند ہونے کی خبر ہے۔الفضل 14۔اگست 1957ء صفحہ 3 640 10 اگست 1957ء فرمایا : رویا میں دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور ایک مکان کی چھت پر ہوں اس پر عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی ہیں میں نے ان کو خواب سنایا کہ میں نے دیکھا میں ایک جگہ پر بیٹھا ہوں اور کچھ احمدی آئے ہیں اور بطور تحفہ کچھ گنے اور کوئی اور چیز میرے آگے کر دیتے ہیں مگر خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ نذرانہ وہ مجھے نہیں دے رہے بلکہ جماعت کو دے رہے ہیں جیسے جلسہ کے موقع پر لوگ آنا وغیرہ لے کر آتے ہیں۔اس وقت میرے پاس چوہدری محمد حسین صاحب مرحوم سیالکوٹی کی بیوی بیٹھی ہیں جن کے ایک لڑکے کا نام عزیز احمد ہے جو لاہور میں غالباًا سیشن جج ہیں اور ایک لڑکے کا نام چوہدری محمد عظیم ہے جو غالبا لا ہو ر میں تحصیل دار ہیں اور ایک لڑکے کا نام چوہدری رحمت اللہ ہے جو غالبا بحری فوج میں کمانڈر ہیں جب کوئی لا کر وہ گنوں والا تحفہ میرے پاس رکھتا ہے وہ خاتون کہتی ہیں آگے کر کے رکھو۔اللہ مبارک کرے جب میں نے چوہدری صاحب کو دیکھا اور یہ خواب مجھے یاد آئی تو میں نے دل میں خیال کیا کہ گنے تو خواب میں برے ہوتے ہیں اس میں ہماری جماعت کے متعلق کوئی انداری پہلو ہے اس وقت یہ معلوم ہوتا 39