رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 596
596 کال کا طریق وہاں بھی جاری ہے اس کے بعد غنودگی کی حالت طاری ہوئی اور فارسی کے کچھ شعر میری زبان پر جاری ہوئے فارسی میں نے درسی طور پر نہیں پڑھی صرف مثنوی رومی حضرت خلیفہ اول نے پڑھائی تھی اس لئے فارسی اشعار بہت کم زبان پر آتے ہیں لیکن عربی کے وہ اشعار جو پرانے شاعروں نے کہے تھے وہ زبان پر آجاتے ہیں بہر حال میں نے دیکھا کہ فارسی کے کچھ شعر میری زبان پر آگئے ہیں لیکن مجھے یاد نہیں رہے آخر سوچتے سوچتے میرے ذہن میں آیا کہ وہ شعر جو میری زبان پر جاری ہوئے تھے ان کے اندر آرپار تار جیسے کچھ الفاظ تھے اس کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا کہ کوئی شعر ایسے ہوں جو میں نے سنے ہوں اور جن میں ایسے الفاظ آتے ہوں اس پر یکدم مجھے یاد آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے فارسی کے دو شعر سنائے تھے اور وہی میری زبان پر جاری ہوئے تھے۔دو شعر سرمد رحمہ اللہ علیہ کے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جانان مرامن بیارید این مردہ تم با وسپارید چوں بوسہ وہد برین لبانم گر زنده شوم عجب مدارید اس میں بھی وہی بسیار آر پار کا وزن آتا تھا اس لئے اس وزن نے میری راہنمائی کی کہ وہ کون سے شعر ہیں جو میری زبان پر جاری ہوئے تھے سرمد عشق الہی کی وجہ سے بعض ایسے الفاظ کہہ جاتے تھے جن کی وجہ سے علماء سمجھتے ہیں کہ یہ بے دین ہے اور وہ کہتے تھے کہ اسے پھانسی دی جائے چنانچہ عالمگیر بادشاہ نے ان کے فتووں کی وجہ سے سرمد کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا لیکن در حقیقت ان کا عشق مجازی نہیں بلکہ حقیقی تھا جب سرمد کو پھانسی کا حکم ہو گیا تو انہوں نے کہا جانان مرائن بیارید این مردہ تم با و سپارید کہ جب میں مرجاؤں تو میرے محبوب کو میرے پاس لانا اور میرا مردہ جسم اس کے حوالے کر دیتا۔چون بوسہ دہد بریں لبانم گر زنده شوم عجب مدارید پھر اگر وہ لبوں پر بوسہ دے اور میں زندہ ہو جاؤں تو اس پر تعجب نہ کرنا۔لوگوں نے قصہ بنایا ہوا ہے کہ سرید کو ایک لڑکے سے عشق تھا چنانچہ پھانسی کے بعد وہ لڑکا لایا گیا اس نے جب سرمد کے لبوں پر بوسہ دیا تو وہ زندہ ہو گئے حالانکہ ان کا عشق مذہبی رنگ کا تھا