رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 593
593 کئی کئی آنکھیں ہوتی تھیں لیکن ایک وقت آئے گا کہ خدا تعالیٰ ان پر حقیقت کھول دے گا کہ وہ دیوتا بھی ہمارے جیسے انسان ہی تھے صرف ان کی روحانی طاقتوں کو تصویری زبان میں اس طرح دکھایا گیا ہے کہ گویا ان کے کئی کئی ہاتھ تھے کئی کئی سرتھے کئی کئی آنکھیں اور کئی کئی ناک تھے اور یہ روحانی طاقتیں سب بزرگوں کو دی گئی ہیں۔الفضل 16۔نومبر 1956 ء صفحہ 5۔4 18 جنوری 1957ء 630 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں قادیان گیا ہوں اور مسجد مبارک کی چھت پر ہوں وہاں خوب چہل پہل ہے اور لوگ آتے جاتے ہیں میں نے دیکھا کہ دو تین آدمی میرے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ہیں تو وہ ادھیڑ عمر کے لیکن توانائی اور طاقت کی وجہ سے وہ جوانی کے زیادہ تر قریب معلوم ہوتے ہیں ان میں سے ایک کا نام عبد الحق ہے اور دوسرے کا نام نوراحمد ہے عبدالحق بات کر رہا ہے اور نور احمد پہلو میں بیٹھا ہوا ہے عبد الحق نے مجھ سے کہا کہ فلاں شخص گواہی دے رہا ہے اور اس سے فلاں نے کہا ہے کہ اس طرح گواہی نہ دو بلکہ اس طرح گواہی دو کہ عبد الحق یا نور احمد کو فائدہ پہنچ جائے اس وقت میرے ذہن میں یہ نہیں کہ وہ گواہی عدالت میں ہے یا سلسلہ کے محکمہ قضاء میں ہے پھر یہ بھی مجھے یاد نہیں کہ اس شخص سے عبدالحق کے متعلق گواہی دینے کے لئے کہا جا رہا ہے یا نور احمد کے متعلق کہا جا رہا ہے بہر حال میں نے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ گواہی عبد الحق یا نور احمد کے خلاف ہے یا ان کے حق میں ہے مجھے صرف اس بات سے غرض ہے کہ وہ سچ بولے اور جو کہے ٹھیک کہے۔یہ کہ وہ عبد الحق یا نو ر احمد کے فائدہ کے لئے گواہی دے اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ وہ جو کہے سچ کہے کیونکہ سچ میں ہی برکت ہے چاہے اس کی گواہی عبد الحق یا نور احمد کے خلاف ہو یا ان کے حق میں ہو۔ان باتوں کے بعد مجھے یکدم یوں محسوس ہوا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد آئی ہے اور میں نے خیال کیا کہ گھر جاؤں اور حضرت صاحب کو دیکھوں ہمارے مکان کا وہ حصہ جو مسجد مبارک کی اوپر کی چھت سے ملحق ہے اور اسی کے دروازہ سے میں مسجد میں نماز کے لئے آیا کرتا تھا میں اس حصہ میں سے گزرا اور پھر چھت کو پار کر کے سیڑھی سے اترا اور اس دالان میں گیا جہاں حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے میں جب اس دالان