رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 582
582 فرمایا : واقعہ بھی یہی ہے کہ کرم الہی ظفر کو گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے چونکہ تم لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے ہو جو ہمارے ملک کے قانون کی خلاف ورزی ہے اس لئے تمہیں وار ننگ دی جاتی ہے کہ تم اس قسم کی قانون شکنی نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔الفضل 15۔مئی 1956ء صفحہ 2 3 1956-22 618 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں کسی شخص سے کہہ رہا ہوں کہ ہم تو قادیان جاتے ہیں اب یہاں جو میرے پاس زمینیں ہیں اور گورنمنٹ نے الاٹ کی ہیں وہ کسی مہاجر کو دیدیں یا گو ر نمنٹ کو واپس کر دیں اس پر کسی نے کہا کہ یہ تو عارضی الائمنٹ ہے آپ یہ زمینیں دے کس طرح سکتے ہیں میں نے اسے کہا کہ میری زمینیں تو بہت تھیں مجھے تو یہاں گورنمنٹ نے قریباً چوتھا حصہ زمین دی ہے دوسرے قادیان کی زمین بہت قیمتی تھی اور یہ زمین بہت ہی ادنی ہے اس لئے میں اس طرح کر سکتا ہوں۔اس وقت دل میں اس قسم کا کوئی خیال نہیں ہے کہ آیا آبادی کے تبادلہ کا دونوں حکومتوں میں باہمی کوئی فیصلہ ہو گیا ہے یا پاکستان نے ہندوستان کا کوئی حصہ فتح کر لیا ہے اتنا میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے ایک حصہ میں جس میں قادیان بھی شامل ہے کچھ لوگ واپس جاسکیں گے اور اس میں کوئی قانونی روک نہیں ہوگی یہ کہ ایسا کسی معاہدہ سے ہو رہا ہے یا فتح کے ذریعہ سے یہ ذہن میں نہیں ہے۔الفضل 31۔جنوری 1957ء صفحہ 1 619 16/15 جون 1956ء فرمایا : 15 اور 16 جون کی درمیانی رات کو مجھ پر الہام کی سی کیفیت طاری ہوئی اور یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے۔اِنَّ اَعَزَّ أَعْمَالِ الْإِنْسَانِ أَنْ يُسَمَّى الْحَمْلَانَ یعنی انسان کا بہترین عمل وہ ہوتا ہے جس کے سبب سے وہ حملان کہلانے لگتا ہے یعنی بہت سا بوجھ اس پر لادا جاتا ہے اس کے بعد وہ کامل قبضہ جو الہام کی صورت میں روح پر ہوتا ہے کچھ کم ہوا اور کشف کی حالت طاری ہوئی اور میں نے اس الہام کا مطلب اپنے دماغ میں دہرانا شروع کیا اور وہ یہ تھا کہ