رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 568

568 ہیں میں اس طرف گیا تو جس کمرہ میں وہ تھیں اس کا دروازہ بند پایا میرے دستک دینے پر انہوں نے دروازہ کھول دیا اور خود چار پائی پر لیٹ گئیں اور یوں معلوم ہو تا تھا کہ رو رہی ہیں میں نے کہا اٹھو اپنے کمرے میں چلو۔لیکن انہوں نے کہا مجھے ضعف ہے میرے لئے چلنا مشکل ہے اس پر میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر انہیں اٹھا لیا اور کہا کہ میں تمہیں سہارا دے کر لے چلتا ہوں۔سہارا دیے دیئے میں ان کو لے کر چلا ایک جگہ ڈھلوان آئی لیکن اس کے گرد کٹر ا لگا ہوا تھا میں الٹے پاؤں ہو گیا ایک ہاتھ سے کٹہرا کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے ان کو سہارا دیتے ہوئے نیچے اترنے لگا انہوں نے کہا کہ آپ تو مجھ سے خفا ہو گئے ہیں۔میں نے کہا تم نے مجھے چھیرو امتہ النصیر) جیسی بیٹی دی ہے میں خفا کیسے ہو سکتا ہوں اسی طرح میں ان کو ان کے کمرے میں لے آیا اور وہ وہاں چارپائی پر بیٹھ گئیں اور میں چارپائی کے پاس کھڑا ہو گیا اور جھک کر ان سے کہا اچھا بتاؤ تم کہاں کہاں رہیں انہوں نے کہا۔کہیں نہیں گھر پر ہی رہی (گویا اپنے میکے رہی) میں نے کہا نہیں یہ بات تو نہیں ایک احمدی نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے اسے کہا کہ تم میری سفارش کر کے نوکری دلواد و استانی وغیرہ کی) تم اگر مجھے بتا دو کہ تم کہاں رہیں تو میں خفا نہیں ہوں گا پھر میں نے ان سے کہا کہ ایک دو دفعہ پہلے بھی تم اسی طرح روٹھ کر گھر چلی گئی تھیں (پہلے بھی ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ روٹھ کر چلی گئی ہیں اور پھر آگئی ہیں خواب میں میں اس کو واقعہ ہی سمجھ کر ان کے سامنے دہراتا ہوں) خواب پیچیدہ ہے مگر بہر حال مبارک معلوم ہوتی ہے کیونکہ سارہ کے معنے ہیں خوش کرنے والی۔پس ان کے چلے جانے سے اور دوبارہ آجانے سے مراد یہ ہے کہ پہلے کچھ ہموم و غموم ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو خوشی سے بدل دے گا اور بچہ دیکھنے سے شاید یہ مراد ہو کہ ان کے بچوں میں سے کسی کے ہاں کوئی اچھا بچہ پیدا ہو۔الفضل 16۔دسمبر 1954ء صفحہ 2 کس کے ہاں ک 599 دسمبر 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک میدان ہے جس کے بیچ میں کچھ لوگ کھڑے ہیں اور میں ان کی طرف جا رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ مجھے انہوں نے بلایا ہے۔جب میں ان لوگوں کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ان لوگوں میں سے ایک حضرت خلیفہ اول بھی ہیں وہ چند قدم آگے بڑھ کر