رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 558
558 غرور سے کوئی دعوی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ذلت کے سامان کر دیتا ہے چنانچہ اس کی توضیح میں میں آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کا ایک واقعہ سناتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ پر گئے اس دفعہ انصار اور مہاجرین میں کچھ جھگڑا ہو گیا۔جھگڑے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عبد اللہ بن ابی بن سلول نے جو منافقوں کا سردار تھا یہ فقرہ کہا یہ مکہ سے آئے ہوئے لوگ بہت مغرور ہو گئے ہیں مدینہ چل لینے دو میں ان لوگوں کی خبر لوں گا وہاں چل کر لَيُخْرِ جَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ المنافقون : 9) (یہ قرآن شریف کے الفاظ ہیں جن میں اس کے قول کو بیان کیا گیا ہے) میں جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہوں مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مدینہ سے نکال دوں گا یہ خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پہنچی اور اس کے بیٹے کو بھی پہنچی جو نهایت مخلص مسلمان تھا۔اس کا بیٹا ر سول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے باپ نے ایسا ایسا کیا ہے اور وہ واجب القتل ہے اس کے قتل کا جب آپ حکم دیں تو مجھے دیں کیونکہ کسی اور مسلمان نے اسے مارا تو شاید کسی وقت میرا نفس مجھے دھوکا دے آپ نے فرمایا ہم نے کوئی ایسا ارادہ نہیں کیا لیکن جب مدینہ پہنچے تو مدینہ کے اندر قدم رکھنے سے پہلے عبد اللہ کا بیٹا اپنی سواری سے کود کر گلی کے سرے پر کھڑا ہو گیا اور تلوار نکال لی اور اپنے باپ سے کہا کہ خدا کی قسم اگر تم نے مدینہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو میں تمہارا سرکاٹ دوں گاور نہ اپنے منہ سے یہ اقرار کرو کہ میں مدینہ کا سب سے ذلیل آدمی ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب انسانوں میں سے معزز آدمی ہیں جب اس نے دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کے ہاتھوں سے مارا جانے والا ہوں تو ذلت کا گھونٹ پی کر وہ فقرے دہرائے جو اس کے بیٹے نے کیے تھے تب اس کے بیٹے نے اسے مدینہ میں داخل ہونے دیا یہ واقعہ سنا کر میں نے اسے کہا کہ دیکھو ایک شخص نے بلا وجہ غرور سے اپنے آپ کو بڑا درجہ دیا اور دوسرے شخص کو جو واقعی بڑے درجہ کا مستحق تھا بلا قصور ادنی درجہ دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو کھڑا کر دیا کہ اس کو ذلیل کرے۔پس اس نوجوان نے جو کچھ کہا وہ ٹھیک کہا جو لوگ دوسروں پر بڑائی جتاتے ہیں اور تعلی کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی ذلت کے سامان پیدا کرنے میں ضرور حصہ لیتا ہے اور جب میں نے یہ کہا تو وہ صاحب بولے آپ نے اپنی گفتگو میں پچتاؤ