رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 550

550 مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو ! اگر تم میں سے کوئی متقی اور نیک بندہ ہے تو وہ جماعت احمدیہ کو اطلاع کر دے کہ پولیس مجھے اس طرح گرفتار کر کے لے جا رہی ہے اور ان کا منشاء یہ ہے کہ مجھے طرح طرح کے دکھ پہنچائیں تاکہ ان کے دکھوں سے تنگ آکر میں جھوٹ بول کر ان کے الزام کی تصدیق کر دوں تین متفرق موقعوں پر میں نے یہی اعلان کیا۔اس کے بعد پولیس لوگوں سے دور مجھے ایک جگہ پر لے گئی وہ سورج کے غروب کے بعد کا وقت معلوم ہوتا ہے جس میں تھوڑی تھوڑی روشنی ہوتی ہے اس وقت دو تین اور پولیس افسر بھی آگئے جن میں سے ایک انگریز ہے انہوں نے مجھے ایک جگہ پر کھڑا کر دیا اور لوہے کے پچھدار ہند میرے بازوؤں اور پنڈلیوں میں باندھ دیئے۔ہیں وہ لوہے کے مگر بہت کچھکدار ہیں اور پٹی کی طرح باندھے جاسکتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ساتھ بجلی کی تاریں لگی ہوئی ہیں اور بجلی کی روان میں چھوڑ کر جب ان پر ہتھوڑا مارا جاتا ہے تو انسانی اعصاب کو ایسا صدمہ پہنچتا ہے کہ وہ تکلیف اس کے لئے نا قابل برداشت ہو جاتی ہے اور اس کے ذریعہ سے پولیس جو بیان چاہے دلوا دیتی ہے۔جب یہ پٹیاں ان لوگوں نے باندھ لیں اور میں نے سمجھا کہ اب یہ عذاب دے کر مجھ سے کوئی جھوٹا بیان دلوانے کی کوشش کریں گے تو میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ دعا کی کہ اے اللہ میں کمزور انسان ہوں اور میری صحت بھی بہت گر گئی ہے جسمانی تکالیف کے برداشت کی طاقت مجھ میں نہیں ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ قسم قسم کی تکلیف دیکر مجھ سے کوئی جھوٹا بیان دلوائیں اے خدا ! تو میری مدد کریا اس عذاب کو ٹلا دے یا اس کی برداشت کی مجھے طاقت دے تاکہ ایسا نہ ہو کہ میں تکلیف برداشت نہ کر کے اپنی جان بچانے کے لئے کوئی غلط بیانی کر بیٹھوں جس سے میری روحانیت کو کوئی نقصان پہنچے یا وہ جماعت کی بدنامی کا موجب ہو میری اس دعا کے معا بعد پولیس افسروں میں سے ایک نے ہتھوڑی اس لوہے کی پٹی پر ماری جو میرے بازو میں باندھی گئی نی وہ یہ تجربہ کرنا چاہتا تھا کہ تعذیب کا سامان کس حد تک مکمل ہو گیا ہے لیکن اس ہتھوڑی کی ضرب مجھے بالکل محسوس نہیں ہوئی سوائے اس کے جیسے کوئی انگلیوں سے چھوتا ہے اس کے بعد مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور مجھے نہیں معلوم ہو سکا کہ کس کس رنگ میں اور کتنی دیر انہوں نے مجھ کو عذاب دیا۔جب مجھے ہوش آئی تو میں نے دیکھا کہ میں ایک چارپائی پر بیٹھا ہوں اور میرے پہلو میں وہ انگریز پولیس افسر بیٹھا ہے جو تعذیب میں شامل تھا وہ سامنے کی طرف منہ