رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 537

537 وہاں سے مجھے وہ نظر آرہا ہے مجھے یوں معلوم ہوا کہ کسی جگہ تیز آگ لگی ہوئی ہے میں نے ادھر جھانکا اور یوں معلوم ہوا جیسے آگ کے شعلوں کی وجہ سے دن کی سی روشنی ہو رہی ہے میں نے دیکھا کہ دھواں بڑی تیزی سے اٹھ رہا ہے اور ایک مکان پر دو شخص ربڑ کی بڑی بڑی نلکیاں پکڑے ہوئے کھڑے ہیں اور دھوئیں پر ڈال رہے ہیں میں ان کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہ میرے ہی مکان ہیں جو میرے بچوں کے ہیں جہاں یہ آگ لگی ہوئی ہے اور شہتوت بیدانہ کے درختوں کے پاس جو مکان ہیں وہاں یہ آگ لگی ہوئی ہے اور پھر تعجب سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ ربڑ کی نلکی سے پٹرول ڈال رہے ہیں لیکن تعجب ہے کہ بجائے آگ لگنے کے آگ بجھ رہی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مکانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا کیونکہ چھتیں بالکل سلامت نظر آ رہی ہیں جو لوگ آگ بجھا رہے ہیں ان میں سے ایک بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی معلوم ہوتے ہیں جو اس وقت قادیان میں ہی رہتے ہیں دیکھتے دیکھتے یوں معلوم ہوا کہ جیسے وہ روشنی جو پہلے آگ سے پیدا ہوئی تھی ختم ہو گئی ہے لیکن اس کی جگہ پر ایسی روشنی ظاہر ہے جیسے دن کی ہوتی ہے اور تمام جو بالکل روشن ہے اور نہایت خوبصورت روشنی ہے اور اس قسم کی روشنی ہے جیسی کہ نورانی روشنی ہوتی ہے دھوپ کی تمازت نہیں ہے آنکھوں کو طراوت بخشتی ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ آگ بجھ گئی ہے۔بھائی عبدالرحمان صاحب نے وہ ربڑ کی نالی جس سے پٹرول پھینک رہے تھے ہاتھ سے چھوڑ دی ہے اور وہ چھت پر گر گئی ہے اس کے بعد وہ چھت کی دوسری طرف جس طرف صحن ہے ادھر اس نیت سے گزرے ہیں کہ اس صحن میں اتریں مجھے وہ صحن بھی نظر آ رہا ہے بڑا صاف شفاف ہے جب وہ صحن میں اتر کر آگئے ہیں تو میں نے دیکھا کہ شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم جو سکھوں سے مسلمان ہوئے ہیں اور جو دیر تک قادیان رہ کر حال میں ہی واپس آئے ہیں وہ اس مکان کی دیوار کے پاس کھڑے ہیں جس میں میں ہوں مجھے ان کی شکل تو نظر نہیں آتی آواز پہچانتا ہوں انہوں نے بھائی عبد الرحمان صاحب سے مخاطب ہو کر کہا آگ بجھ گئی ہے تو میرے بھائیوں کو بھی اندر سے نکال لو۔اس آواز کو سن کر صحن سے پرے جو دو سرا مکان ہے اس میں سے آواز آئی کہ ہم آرہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دو نوجوان بہت خوبصورت لیکن داڑھیاں مسلمانوں کی طرح تراشی ہو ئیں سکھ قوم کے فرداچھے لباس میں باہر نکلے وہ باہر نکل کے چھت کی طرف جانے لگے اس پر شیخ عبدالرحیم صاحب نے آواز دی کہ تم لوگ میری