رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 522
522 561 ومبر 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا جلسہ ہے اور اس میں میں نے تقریر کرنی ہے میں جلسہ گاہ میں گیا ہوں تو میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے جس میں کرسیاں بچھی ہوئی ہیں اور علاوہ عام قسم کی کرسیوں کے کو چیں اور گرے والی کرسیاں بھی ہیں بڑی قیمتی اور خوشنما جیسے بہت بڑے بڑے جلسوں اور چائے کی دعوتوں میں امراء اور گورنمنٹ کے ہاں کرسیاں ہوتی ہیں اسی قسم کی ہیں اور ان تمام پر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ جلسہ گاہ کھچا کھچ بھری ہوئی ہے درمیان میں تو اچھی قسم کی لیکن بغیر بازوؤں والی کرسیاں ہیں اور کناروں پر اعلیٰ قسم کی کو چیں اور ان کے ساتھ کی کرسیاں ہیں۔سٹیج ایک اونچی جگہ پر ہے جیسے وہ کسی پہاڑی کا دامن ہو تا ہے اور اسے بھی نہایت خوشنما سامانوں سے سجایا ہوا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تقریر میری ہے اور اس کے صد رسید رضا علی مرحوم ہیں۔سید رضا علی قبل از تقسیم ہندوستان میں عرصہ تک پبلک سروس کمیشن کے ممبر رہے ہیں اور لیگ کے بھی سرکردہ ممبروں میں سے تھے اور ایک اجلاس کی انہوں نے صدارت بھی کی تھی جو بمبئی میں ہوا تھا اسی سال کابل میں ہمارے تین مبلغ شہید کئے گئے تھے اور عام طور پر مسلمان اخبارات اس کے خلاف آواز اٹھانے سے ہچکچاتے تھے لیکن سید رضا علی صاحب مرحوم نے اپنے خطبہ صدارت میں اس فعل کی مذمت کی اور بڑی دلیری سے اس کو خلاف اسلام قرار دیا خواب میں میں دیکھتا ہوں کہ وہی اس تقریر میں صدر ہوں گے جب میں جلسہ گاہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ پہلے ہی اپنی کرسی صدارت پر بیٹھے ہیں رنگ سفید ہے جیسا کہ ان کا تھا عمران کی اس سے چھوٹی معلوم ہوتی ہے جس عمر میں کہ میں نے ان کو دیکھا تھا یعنی خواب میں وہ زیادہ جوان معلوم ہوتے ہیں وہ داڑھی منڈوایا کرتے تھے مگر مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ ان کی مونچھیں ہوا کرتی تھیں یا نہیں خواب میں میں نے ان کی بہت چھوٹی چھوٹی مونچھیں دیکھیں جس کی وجہ سے ان کا رنگ اور بھی سفید نظر آتا ہے ایک عجیب بات میں نے یہ دیکھی کہ عام طور پر تقریر صدر کے ساتھ کھڑے ہو کر کی جاتی ہے مگر رویا میں میں نے دیکھا کہ انتظام یہ ہے کہ صدر کے بالمقابل ہجوم کے دوسری طرف کھڑے ہو کر سٹیج کی طرف منہ کر کے تقریر ہوگی چنانچہ میں جلسہ گاہ کے آخری سرے پر گیا ہوں وہاں بھی بہت سی کو چیں بچھی ہوئی ہیں ایک کھلی کوچ پر