رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 511
511 549 جون 1952ء فرمایا : میں نے رویا دیکھا کہ میں ہندوستان گیا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی جماعتوں نے ہندوستان کی حکومت سے مل کر کوئی انتظام کیا ہوا ہے کہ مجھے چند دن کے لئے آنے کی اجازت دیں۔جہاں میں گیا ہوں وہ قادیان نہیں ہے بلکہ وسط ہند کی کوئی جگہ ہے لیکن حیران ہوتا ہوں کہ اگر ان لوگوں نے میرے آنے کی اجازت لینی ہی تھی تو قادیان میں لیتے۔میرے پوچھنے پر مجھے بتایا گیا کہ اس انتظام کی دو وجہیں ہیں ایک تو یہ کہ یہ مرکزی جگہ ہے۔ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے لوگ یہاں آکر مل سکیں گے اس بات کو سن کر مجھے خاص خوشی ہوئی اور فوراً خیال آیا کہ برادرم سیٹھ عبد اللہ بھائی کو ملے ہوئے مدت ہوئی وہ یہاں آکر ملاقات کر سکیں گے دوسری بات انہوں نے یہ بتائی کہ اس ضلع کا یا اس شہر کا افسر کوئی احمدی ہے یعنی ڈپٹی کمشنر یاسی مجسٹریٹ یا پولیس کا افسر یعنی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ یا سپرنٹنڈنٹ پولیس۔پس شہر یا ضلع کے افسر کے احمدی ہونے کی وجہ سے انتظام میں زیادہ سہولت رہے گی جس جگہ پر ہمیں ٹھرایا گیا ہے وہ بہت بڑی عمارت معلوم ہوتی ہے بہت بڑے بڑے ہال ہیں چنانچہ میں ایک چھت پر ہوں اور ارد گرد بہت سے دوست ہیں۔چھت ایک وسیع میدان کی طرح نظر آ رہی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں آدمیوں کے ٹھہرانے کے خیال سے وہ مکان لیا گیا ہے وہ احمدی افسر جو اس جگہ پر ہیں وہ بھی مجھے نظر آئے اور میں نے ان سے باتیں کیں۔قران کا چھوٹا ہے جسم موٹا تو نہیں لیکن گدرا ہے مگر ان کے سر پر پگڑی ہندو آنہ طرز کی ہے جیسے مرہٹوں یا مارواڑیوں کی ہوتی ہے میں اس وقت دل میں تکلیف محسوس کرتا ہوں کہ یہاں مسلمانوں کو تکلیفوں سے بچنے کے لئے اپنے لباس بھی بدلنے پڑے ہیں اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 9۔جولائی 1952 ء صفحہ 3 جون 1952ء 550 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ہم قادیان میں صرف چند گھنٹوں کے لئے گئے ہیں پھر ہم نے واپس آتا ہے۔میں گھر سے باہر دوستوں سے ملاقات کر کے جلدی سے اندر آیا ہوں تا کہ ہم روانہ ہو جائیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں ریل نہیں بلکہ پر انا زمانہ ہے جب بٹالہ سے ریل پر سوار