رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 469

469 امراء باتیں کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کا سردار یا خود راجہ جے چند راجہ قنوج ہے یا اس کا بڑا وزیر۔اور میں خواب میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ زمانہ وہ ہے جب پر تھوی راج چکرورتی بن چکا تھا۔چکرورتی کی جگہ کوئی اور لفظ میرے ذہن میں آتا ہے مگر مفہوم یہی ہے کہ وہ سارے ہندوستان کا راجہ ہونے کا دعوی کر چکا تھا۔یہ خواب بہت ہی مبارک ہے اور اس میں ایک عظیم الشان واقعہ کی خبر دی گئی ہے جو مسلمانوں کے لئے نہایت مبارک اور کامیابی کا موجب ہو گی۔الفضل یکم فروری 1951ء صفحہ 2 515 جنوری 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ مجھے کوئی شخص کہتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں صوبہ کے افسر سے چارج لے لیا ہے۔میں دونوں آدمیوں کو جانتا ہوں لیکن صوبہ کا افسر تو مجھے یاد رہ گیا ہے اور دو سرے آدمی کا نام مجھے یاد نہیں رہا مگر مصلحت میں اس صوبہ کے افسر کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔خواب میں میں حیران ہوں کہ ابھی تو ان کے چارج دینے کا وقت نہیں آیا تھا انہوں نے چارج کیوں دیا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ کیا وہ بیمار ہو گئے ہیں یا ان کو کہیں بدل دیا گیا ہے یا انہیں ہٹا دیا گیا ہے یا وہ فوت ہو گئے ہیں۔فوت ہونے کا لفظ خاص طور پر میرے ذہن میں نہیں ہے لیکن سارے خیالات کے نتیجہ میں اس کا بھی طبیعت پر اثر ہے اور میں سوچتا ہوں کہ وہ کونسی وجہ ہے جو ان کے عہدہ سے قبل از وقت ہٹنے کا باعث ہو سکتی ہے۔الفضل یکم فروری 1951 ء صفحہ 2 516 فروری 1951ء فرمایا : سندھ جانے سے قبل میں نے دیکھا کہ برادرم عبد الشکور کنڑے جرمن نو مسلم نے مجھ سے کوئی سوال کیا ہے۔اس سوال کے جواب میں میں نے اللہ تعالی کی بعض صفات کو پیش کیا ہے جن میں سے ایک رب بھی ہے۔اس پر مسٹر عبدالشکور نے کہا کہ ان صفات کا ذکر بائبل میں بھی آتا ہے۔اس فقرہ کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ چونکہ بائبل میں بھی بعض صفات کا ذکر ہے اس لئے یہ دلائل عیسائیوں پر بھی اثر کر سکتے ہیں اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ گویا قرآن کریم بائبل کی نقل کرتا ہے میں نے ان دونوں معنوں کا خیال کر کے دل میں سوچا کہ یہ نو مسلم