رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 452

452 نے نہایت مرعوب ہو کر میری بات کی تصدیق کی اور کہا ہاں پھر باز متائن کا درخت گر گیا۔میں نے کہا کیا تو نے اس سے بھی سبق حاصل نہ کیا اور تو نے چاہا کہ تو ہمارے باغ میں داخل ہو اور اس پر قبضہ کرلے۔یہ کہہ کر میں نے سمجھا کہ میں نے حجت تمام کر دی ہے اور میں واپس لوٹا۔جب میں واپس لوٹنے لگا تو میں نے دیکھا کہ تمام راستہ میں اس بادشاہ کے جرنیل کھڑے ہیں۔سب کے سیاہ لباس ہیں لمبی شیروانیاں ہیں جن کے گلے بند ہیں اور سر پر وہی عجیب قسم کی ٹوپیاں ہیں جب میں مڑا تو میری پیٹھ کے عین پیچھے ایک جرنیل میرا راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا۔اس کا قد کوئی نوفٹ کا معلوم ہوتا ہے کیونکہ میری آنکھیں اس کے سینہ کی مچلی پسلیوں تک پہنچی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔اس کے باقی ساتھی بھی ایسے ہی لمبے ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ وہ درخت کی شاخ جو میرے ہاتھ میں تھی اور جس سے میں حملہ کر رہا تھا بار بار مارنے کی وجہ سے اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور وہ چھوٹی ہو گئی ہے لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس چھوٹی سی ٹہنی سے ہی میں ان لوگوں کا مقابلہ کر سکوں گا۔وہ جرنیل جو سب سے آگے تھا اور جس نے میرا راستہ روکا ہوا تھا میں نے اس کے پیٹ پر شاخ ماری اور کہا رستہ چھوڑ دو جب میں نے کہا رستہ چھوڑ دو تو اس بادشاہ نے بھی کہا۔رستہ چھوڑ دو اور میں نے بار بار وہ ٹہنی ان جرنیلوں کو مارنی شروع کی اور وہ راستہ کھولتے چلے گئے آخر میں نے وہ سڑک بھی طے کی اور دوسرا موڑ بھی طے کیا اور تیسرے موڑ کی طرف مڑا جہاں سے ہمارے باغ کی طرف راستہ جاتا تھا جب میں اس موڑ پر مڑا تو اس وقت مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہمارے گھر کی کچھ عورتیں بھی ہمارے ساتھ ہو گئی تھیں اور مجھے میری پشت کی طرف سے ایک آواز آئی جو اُتم ناصر کی معلوم ہوتی ہے آواز یہ تھی کہ ”واہ عبد اللہ کا ڈنڈا " مجھے یہ فقرہ عجیب سا معلوم ہوا اور میں نے کہا۔عبد اللہ کاڈنڈا کیسا۔اس پر ارم ناصر نے کہا کہ آپ آگے چلے گئے اور دشمن نے رستہ روک لیا تو عبد اللہ نے (جو ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی معلوم ہوتا ہے مگر میں اسے جانتا نہیں) یہ سمجھا کہ اب یہ لوگ آپ کو پکڑنے کی کوشش کریں گے چنانچہ اس نے ایک ڈنڈا پکڑ لیا اور دیوانہ وارد شمن کے جرنیلوں پر حملہ کرنا شروع کیا جہاں اس کا ڈنڈا گر تا تھا دشمن کچلا جا کر بالکل زمین سے پیوست ہو جاتا تھا۔یہاں تک کہ لڑتے لڑتے عبد اللہ شہید ہو گیا۔اس وقت گوند کو رہ بالا عبد اللہ کی لاش کچھ فاصلہ پر ہے اور اس کے درمیان کچھ رستے کے موڑ بھی ہیں لیکن کشفی طور پر مجھے اس عبد اللہ کی لاش