رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 451

451 تھے اسی قسم کے کئی سوجہ نیل اس کے ساتھ معلوم ہوتے ہیں۔سب کے کوٹ کالے ہیں قد بہت لمبے لمبے اور سر پر ایک عجیب قسم کی ٹوپی ہے جو رومی ٹوپی کے مشابہہ ہے لیکن اس کا اوپر کا سرا کلاہ کی طرح پتلا ہے میں اس بادشاہ کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے گفتگو کی۔میں اس وقت اس سے اردو میں عربی کے طریق پر بات کرتا ہوں یعنی تو تو کہہ کر مخاطب کرتا ہوں چنانچہ میں نے اسے کہا۔تو صلح کے نام سے ہمارے ملک میں داخل ہونا چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہم تمہارے باغ کی سیر کریں گے اور اس کے سایوں میں بیٹھیں گے اور اس کی ٹھنڈک سے لطف حاصل کریں گے لیکن تیرا منشاء یہ ہے کہ تو ہمارے ملک پر قبضہ کرے اور صلح کر کے دھوکا دے۔میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں اور یہ کہہ کر میں نے اپنی چھڑی سے اس پر حملہ کیا بجائے اس کے کہ وہ میرا مقابلہ کرتا وہ اس چھڑی سے گھبرا کر پیچھے ہٹا اور ساتھ ہی اس کے ہمراہی بھی پیچھے ہے۔میں تبدیلی الفاظ کے ساتھ اوپر والے مضمون کو دہراتا چلا گیا اور چھڑی سے اس پر حملہ کرتا گیا اور وہ بادشاہ اور اس کے ساتھ کے جرنیل پیچھے ہٹتے گئے۔کچھ عرصہ چلنے کے بعد ایک موڑ آیا اس پر وہ بادشاہ مڑ گیا پھر ایک اور موڑ آیا اور اس پر بھی وہ مڑ گیا اس موڑ پر جب میں نے اس پر حملہ کیا تو وہ کسی اونچی چیز پر چڑھ گیا جیسے کوئی بڑے درخت کا ئنڈ ہوتا ہے اس وقت میں نے پھر وہی بات دہراتے ہوئے کہا کیا تیرے لئے باز نتا ئین حکومت کا نشان کافی نہیں تھا ( یعنی وہ رومی حکومت جو قسطنطنیہ میں قائم تھی اور جس کا اسلام کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا) کیا خدا نے تم کو اس کے ذریعہ سے خبردار نہیں کر دیا تھا جب باز نتائین حکومت نے مسیح کا مقابلہ کرنا چاہا اور اسے مغلوب کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے اس کے درخت میں کیڑا لگا دیا اور وہ کھو کھلا ہو تا گیا یہاں تک کہ آخر گر گیا۔جب میں نے یہ لفظ کہے تو میرے سامنے ایک درخت نمودار ہوا جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ باز نتائن حکومت کا درخت ہے اور اس درخت کی جڑھ میں ایک بڑا سا سوراخ نظر آیا جس نے اس کے اندر کی ساری لکڑی کھالی اور وہ ایک طرف کو جھکا ہوا ہے جیسے وہ گرنے کے لئے تیار ہے لیکن اس درخت کو باز نتائن کے باشندوں نے خوب سجایا ہوا ہے اور قسما قسم کے رنگوں کی دھجیاں اس کے گرد لپٹی ہوئی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ درخت جو یکدم سامنے لایا گیا ہے تو یہ اس بادشاہ کو دکھانے کے لئے لایا گیا ہے جب میں نے یہ کہا کہ پھر وہ درخت گر گیا تو اس بادشاہ