رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 437

437 معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی حکومت جو اتنے گہرے تعلقات قادیان کے لوگوں سے پیدا کر رہی ہے تو ضرور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکومت کو پاکستان کے احمدیوں سے بھی کوئی امید لگی ہوئی ہے میں اس بات کو سن کر حیران ہوا ہوں کیونکہ وہ بات بالکل جھوٹی ہے لیکن میں تردید کرنے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ چونکہ یہ محکمہ میرے پاس نہیں۔ممکن ہے کوئی تھوڑی بہت بات ہو جس کا مجھے علم نہ ہو پس میں نے ان سے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں۔کسی نے غلط بات کہی ہے لیکن قادیان کی انجمن کا تعلق انتظامی طور پر میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب کے سپرد ہے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کو بھی بلوا کر پوچھ لیا جائے اس پر میں نے کسی شخص کو بھیجا اور وہ میاں بشیر احمد صاحب کو بلوا لایا۔میں نے میاں بشیر احمد صاحب کے سامنے ساری بات دہرائی انہوں نے بڑے زور سے اس کا انکار کیا اور کہا یہ محض کسی دشمن کی شرارت ہے ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔تب میں نے وزیر اعظم صاحب سے کہا کہ جہاں تک ہندوستان کے احمدیوں کی وفاداری کا سوال ہے وہ باہمی سمجھوتہ ہے کہ ہر ملک کی رعایا اس کی وفادار رہے گی اس لئے ہماری جماعت کے وہ لوگ جو ہندوستان میں رہتے ہیں بہر حال حکومت ہندوستان کے وفادار رہیں گے لیکن حکومت کی طرف سے بھی ان کو امن میسر نہیں اور وہ تو قیدیوں کی طرح وہاں زندگی بسر کر رہے ہیں وہ لوگ آزادی سے اپنے محلوں سے باہر نہیں جا سکتے۔کوئی کام کاج نہیں کر سکتے کوئی گزارہ کی صورت نہیں جب میں نے تفصیل سے یہ باتیں بتائیں تو یوں معلوم ہوا جیسے وزیر اعظم پر ان کا اثر ہوا اور ان کے چہرہ سے رقت کے آثار ظاہر ہوئے تب وہ اٹھے اور رخصتی سلام کر کے باہر موٹر کھڑی ہے اس میں سوار ہو گئے۔میں بھی ان کے اعزاز میں موٹر تک گیا ہوں۔موٹر میں بیٹھتے ہوئے انہوں نے مجھے سلام کیا اس کے بعد پھر کچھ ان کے دل میں خیال گذرا اور وہ میری طرف مڑے اور کہنے لگے کہ آپ اگر چاہیں تو میں کوشش کروں گا کہ آپ کا لڑکا وسیم احمد ادھر آجائے۔میں نے کہا نواب زادہ صاحب آپ یہ کیا کہتے ہیں۔قادیان کو تو ہم نے آباد رکھنا ہے اگر میں اپنے لڑکے کو بلالوں تو دوسرے لوگ قربانی کے لئے کس طرح تیار ہوں گے اور وہاں کس طرح آباد ہوں گے پھر میں نے کہا کہ اگر وہ لڑکا خود بھی آجائے اور اس کی جگہ پر کوئی دوسرا جانے کے لئے تیار نہ ہو تو لازماً پھر میں کوشش کروں گا کہ میں وہاں چلا جاؤں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کو سن کر وہ بہت متاثر ہوئے اور موٹر