رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 433

433 483 جولائی یا اگست 1949ء فرمایا : جولائی یا اگست کے مہینہ میں میں نے یہ خواب دیکھی تھی۔میں نے انہی دنوں اس خواب کا بعض دوستوں سے ذکر کر دیا تھا۔میں نے دیکھا کہ گویا میں قادیان میں ہوں اور حلقہ مسجد مبارک کے شمال میں جو چوک ہے جس میں سے دار الحمد کو قصر خلافت کو اور بیرونی محلوں کو رستہ پھٹتا ہے اس طرف سے دوڑا چلا آرہا ہوں۔آگے آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ہیں اور ان کے پیچھے ایک لڑکا کوئی سات آٹھ سال کا ہے جس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے جو ہندوستانی طرز کی ہے یعنی بڑی سی پگڑی ہے لیکن چونہ اس نے عربوں کا سا پہنا ہوا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا جاتا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ وہ میرا بیٹا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئندہ کسی وقت اسلام کی خدمت کے منصب پر فائز ہونے والا ہے۔میرے پیچھے کچھ لوگ دوڑتے ہوئے آرہے ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ مخالف ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔میں پیچھے پیچھے اس لئے چل رہا ہوں کہ اگر دشمن قریب آجائے تو میں اس کا مقابلہ کروں۔اتنے میں ہم احمدیہ چوک میں پہنچ گئے جو مسجد مبارک کے سامنے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیڑھیوں پر چڑھ کے گھر میں داخل ہو گئے۔سیڑھیاں تو مجھے وہ نظر آرہی ہیں جو مسجد مبارک میں جاتی ہیں لیکن اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مسجد مبارک کی پرانی سیڑھیوں میں سے کوئی رستہ گھر کی طرف جاتا ہے اسی طرح ان سیڑھیوں میں سے کوئی رستہ گھر کی طرف جاتا ہے۔جب آپ گھر میں داخل ہو گئے تو میں پرانی سیڑھیوں کے رستہ سے آپ کے پیچھے گھر میں چلا گیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کمرہ کے سامنے جس میں آپ آخری ایام میں رہا کرتے تھے صحن میں کھڑے ہو گئے اور کچھ آدمی آپ کے گرد جمع ہو گئے۔میں اس اطمینان سے کہ اب حملہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا جنوبی طرف کے دالان میں سے ہوتے ہوئے عمارت کے ایک مشرقی صہ میں چلا گیا۔جس کا ایک حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بنا ہوا تھا لیکن اب اس کی شکل بالکل بدل گئی ہے۔میں نے وہاں سے دیکھا کہ یکدم ایک ہجوم نے حملہ کیا ہے اور سخت لڑائی ہوئی ہے۔میں بھاگ کر پھر جنوبی والان کی طرف آیا اس میں صرف چند سیکنڈ