رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 432

432 ان سے پوچھوں کہ کیا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی اطلاع دیدی گئی ہے اور پھر معا میرے دل میں خیال گزرا کہ ایسا خیال کرنا تو کل کے کچھ خلاف ہے کیونکہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب حکومت کے افسر ہیں ان کو اطلاع کرنے کے معنی تو یہ ہوئے کہ ان سے امداد کی خواہش کی جائے اس خیال کے آنے پر میں نے یہ سوال نہیں کیا اور میں نے نماز شروع کر دی۔میں نماز پڑھ کر سنتوں میں مشغول تھا اور باقی دوستوں میں سے اکثر سنتیں پڑھ کر میرے گرد حلقہ باندھ کر بیٹھے تھے کہ مجھے آواز میں آنی شروع ہو ئیں جن سے معلوم ہو تا تھا کہ کوئی شخص بیہودہ بکواس کر رہا ہے وہ کبھی ایک احمدی کے پاس جاتا ہے اور کبھی دوسرے احمدی کے پاس جاتا ہے اور بے ربط سی باتیں کرتا ہے۔میں نے خواب میں سمجھا کہ وہ پولیس افسر ہے جس کے گھر پر میں ہوں۔اتنے میں مجھے ماسٹر فقیر اللہ صاحب کی آواز آئی کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم نے شراب پی ہوئی ہے اور ایسی بیہودہ باتیں کرتے ہو۔میں تمہارے افسروں کے پاس شکایت کروں گا۔اس پر وہ شخص گھبرا گیا اور اس نے کہا اوہو مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے معاف کر دیا جائے۔اتنے میں میں سنتیں پڑھ کر فارغ ہوا اور کمرے کے آگے صحن ہے اس میں جا کر کھڑا ہو گیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ پنجاب کی مختلف جماعتوں کے نمائندے اس خبر کو سن کر میرے ملنے کے لئے آرہے ہیں۔سیالکوٹ کا ایک وفد میرے پاس آیا ان کا لیڈر ایک بڑھا صحابی معلوم ہوتا ہے۔اس کے چہرہ سے بہت غم ٹپک رہا ہے۔اس نے غمگین آواز میں مجھ سے پوچھا کہ حضور یہ کیا بات ہے کہ حملہ دوسرے شخص نے کیا اور حکومت پرسش آپ سے کر رہی ہے۔میں اس دوست کی غمگین آواز سن کر اور غمگین چہرہ کو دیکھ کر ہنس پڑا اور میں نے اسے جواب میں کہا کہ چوہدری صاحب گورنمنٹ نے یہ سوچا ہوگا کہ دشمن نے حملہ تو کر لیا اب یہ کہیں اس کا جواب نہ دیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 25۔نومبر 1949 ء صفحہ 2 482 جون تا نومبر 1949ء فرمایا : میں نے اس عرصہ میں دو دفعہ دیکھا کہ میں قادیان گیا ہوں۔تفصیلات مجھے یاد نہیں رہیں 3 الفضل 25۔نومبر 1949ء صفحہ 2