رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 431
431 481 جون 1949ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ہمارے ایک دوست کو دشمن نے دعوت دی ہے اس دوست نے مجھ سے بھی خواہش کی کہ میں اس کے ساتھ چلوں میں نے ہچکچاہٹ ظاہر کی کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی فتنہ کی صورت پیدا کر دے لیکن اس دوست نے اصرار کیا کہ ایسا نہیں ہو گا آپ ضرور چلیں۔جب میں بلانے والے کے گھر کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دو شخص اس گھر میں سے نکلے اور ایک طرف کو دور پڑے جن میں سے ایک شخص وہ بھی تھا جس نے بلوایا تھا۔کچھ فاصلے پر جا کر اس نے جیب میں سے پستول نکالا اور مجھ پر فائر کیا۔تین فائر اس نے یکے بعد دیگرے کئے جن کی گولیاں میرے آگے سے قریب سے گزر گئیں تب میں نے بھی پستول اپنی جیب میں سے نکالا تاکہ اس کے ذریعہ سے خود حفاظتی کروں مگر مجھے یاد نہیں کہ میں نے پستول چلایا یا نہیں چلایا۔ہاں اتنا یاد ہے کہ جب میں نے دیکھا حملہ کی ناکامی اور میرے دفاع کی تیاری کی وجہ سے وہ شخص رک گیا تو میں تیزی سے اس جگہ سے دوڑ پڑا اور ایک محلہ میں آیا جہاں احمدی زیادہ تھے میں ان کو یہ واقعہ سنا رہا تھا کہ ایک پولیس افسر آیا اور اس نے کہا کہ گورنمنٹ کے حکم کے ماتحت میں آپ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔میں اس کے ساتھ چلا گیا وہ مجھے اپنے گھر لے گیا جس گھر میں اس کے بیوی بچے بھی ہیں۔گھر کی مستورات چھوٹے چھوٹے بچوں کو اٹھا کر میرے پاس دعا کے لئے لائیں اور بچوں کے سر پر انہوں نے مجھ سے ہاتھ پھر وائے اور دعا کروائی۔اس وقت میں دل میں حیران ہوں کہ یہ کیسی نظر بندی ہے کہ یہ لوگ مجھ سے دعائیں بھی کرواتے ہیں اور برکت کے لئے ہاتھ بھی پھرواتے ہیں۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا اور میں نے کہا کہ میں نے نماز پڑھنی ہے اس پر اس پولیس افسر نے کمرے کا انتظام کر دیا۔اس وقت بہت سے احمدی دوست اس کمرہ میں آگئے جن میں مجھے یاد ہے کہ شیخ بشیر احمد صاحب بھی ہیں اور ماسٹر فقیر اللہ صاحب بھی ہیں جو لاہور کی جماعت کے دوست ہیں (گو یہ رویا سفر سندھ میں ہوئی تھی میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اس واقعہ کی اطلاع جماعتوں کو دے دینی چاہئے۔میں نے شیخ بشیر احمد صاحب سے جو میرے پیچھے ہیں پوچھا کہ کیا جماعت کے دوستوں کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے انہوں نے کہا ہاں دے دی گئی ہے۔تب میرے دل میں خیال آیا کہ میں