رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 424
424 جیسا کہ حضرت اماں جان) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے مسجد کی سیڑھیاں اترتے ہوئے ایک دروازہ گول کمرہ کی طرف کھلتا ہے اس کمرے سے گھر کی طرف جائیں تو اس کے ساتھ ایک کو ٹھڑی ہے اس کو ٹھڑی کے ساتھ ایک دالان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابتدائی ایام میں جب آپ نے والدہ سے شادی کی تھی اس دالان میں رہا کرتے تھے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں دالان میں ہوں اور کسی شخص نے آکر مجھے تین ہزار پانچ سو پونڈ صدقہ کے لئے دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ یہ رقم غرباء پر خرچ کر دیں جس وقت اس شخص نے یہ رقم دی ہے اس وقت میرے پاس میری بیوی بشری بیگم بھی ہیں۔میں نے انہیں وہ روپیہ دیا اور کہا کہ یہ روپیہ نذیر کو دے دو (نذیر احمد میرا ایک موٹر ڈائیور ہے اس کا پورا نام نذیر احمد ہے لیکن رویا میں میں نے صرف نذیر کا لفظ کہا ہے) جب میری بیوی بشری بیگم مجھ سے روپیہ لے کر چلی گئیں تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اتنی بڑی رقم ہے میں نے ایک ہی شخص کو دے دی ہے بعض لوگ اعتراض کریں گے کہ اتنی بڑی رقم ایک ہی شخص کو کیوں دے دی گئی۔میں اس اعتراض کا خود ہی جواب دیتا ہوں کہ آخر دینے والے نے وہ رقم مجھے ہی دی تھی اور اس نے خود ہی کہا تھا کہ یہ رقم جسے میں چاہوں دے دوں۔اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے ؟ پھر میں خود ہی یہ شبہ پیدا کر تا ہوں کہ گو میں نے وہ رقم ایک ہی شخص کو دے دی ہے اور مجھے اختیار تھا کہ جسے چاہوں دے دوں لیکن کیا میں ہر جگہ اعتراضات اور سوالات کے جواب دیتا رہوں گا اس پر میں نے سوچا کہ میں نذیر احمد سے کہوں گا کہ وہ روپیہ واپس کر دے لیکن میں پھر یہ خیال کرتا ہوں کہ روپیہ دے کر واپس لینا ٹھیک نہیں اس کے بعد میں ایک اور تجویز کرتا ہوں کہ اچھا۔میں اسے تحریک کروں گا کہ وہ اس روپیہ میں سے کچھ روپیہ واپس کر دے اور اس میں میں کچھ اپنے پاس سے ملا کر جماعت کو دے دوں گا تا کہ وہ جہاں چاہے اس کو خرچ کر لے۔میرے دل میں اس قسم کے سوالات اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور میں رویا میں ہی ان کے جواب دیتا ہوں۔اتنے میں میری بیوی واپس آگئیں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے وہ روپیہ نذیر کو دے دیا ہے انہوں نے جواب دیا نذیر تو گھر نہیں تھا میں وہ روپیہ اس کی بیوی کو دے آئی ہوں۔