رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 38

38 نظارہ بدلا تو کسی شخص نے مجھے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی مجلس میں بیٹھے تھے لیکن میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔الفضل 13۔دسمبر 1914 ء صفحہ 7 61 9۔دسمبر 1914ء فرمایا : اس سے تھوڑی دیر بعد میں نے ایک اور منذر رویا دیکھی اور وہ یہ کہ جیسی اس مسجد (اقصی میں بیچوں بیچ ایک نالی جاتی ہے اسی طرح کی ایک نہر ہے اور وہ بہت دور تک چلی جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بڑا پانی ہے مگر ہندوں کی وجہ سے اس کے اندر ہی اندر ہے اس کے ارد گرد ایک نہایت خوبصورت باغ ہے۔میں اس میں مل رہا ہوں اور ایک اور آدمی بھی میرے ساتھ ہے شملتے شملتے نہر کی پرلی طرف میں نے چوہدری فتح محمد صاحب کو دیکھا ہے۔اتنے میں ایک شخص آیا میرے ساتھ گھر کی مستورات بھی ہیں اس نے مجھے کہا کہ مستورات کی پردہ کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے انہیں کہہ دیں صرف باغ میں ملیں۔میں جب اس جگہ سے ہٹ کر دوسری طرف گیا ہوں تو مجھے بڑے زور سے پانی کے بہنے کی سرسر کی آواز آئی۔اس وقت میں جس طرح پرانے مقبرے بنے ہوتے ہیں ایسے مکان میں کھڑا ہوں وہ مقبرہ اس طرح کا ہے جس طرح بادشاہوں کی قبروں پر بنے ہوئے ہوتے ہیں۔میں اس کی چھت پر چڑھ گیا ہوں اور اس کی کئی چھتیں اونچی نیچی ایک دوسرے کے ساتھ بنی ہوئی ہیں مجھے پانی کی سرسر کی جو آواز آئی تو میں نے اس شہر کی طرف دیکھایا تو وہ ایسا خوبصورت نظارہ تھا کہ پرستان نظر آتا تھا یا ہر جگہ پانی پھرتا جاتا تھا عمارتیں گرتی جاتی تھیں درخت دبے جاتے تھے گاؤں اور شہر تباہ ہوئے جاتے تھے پانی میں لوگ ڈوب رہے تھے کسی کے گلے گلے کسی کے منہ تک کسی کے سر کے اوپر پانی چڑھا جاتا تھا اور ڈوبنے والوں کا بڑا دردناک نظارہ تھا۔یک لخت وہ پانی اس مکان کے بھی قریب آگیا جس پر میں کھڑا تھا اور اس کی دیواروں سے ٹکڑا نا شروع ہو گیا۔آگے پیچھے کی آبادی کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ کر بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا۔"نوح کا طوفان " پھر پانی اس مکان کی چھت پر چڑھنا شروع ہوا اس کے ارد گرد جو دیوار تھی ایسا معلوم ہو تا تھا کہ پانی اسے توڑ کر اندر آنا چاہتا ہے اور لہریں دیوار کے اوپر سے نظر آتی ہیں۔اس وقت میں نے گھبرا کا ادھر ادھر دیکھا مجھے کہیں آبادی نظر نہیں آتی تھی اور پانی ہی پانی نظر آتا تھا جب پانی چھت پر بھی آنے لگا تو میں نے