رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 393

393 ہوئے تھے اور شرک کے خلاف ہمارے اندر زیادہ جوش پایا جاتا تھا ایک فقیر ہمارے پاس آیا جو بہت تجربہ کار اور کائیاں آدمی تھا اس نے زور سے کہا کہ دلائیے کچھ دستگیر کے نام پر۔میں نے توحید کے جوش میں آکر فقیر کو جواب دیا میں تمہارے دستگیر کو نہیں جانتا۔وہ فقیر چونکہ تجربہ کار اور خرانٹ تھا اس نے میرے طرز کلام سے جھٹ سمجھ لیا کہ یہ کوئی اہلحدیث ہے اس لئے اس نے فوراً پینترا بدلا اور کہا کہ مولا خدا کے سوا بھی کوئی دستگیر ہے ؟ اس پر میں خاموش ہو گیا حالانکہ بات دراصل یہ تھی کہ جب اس نے دستگیر کے نام پر سوال کیا تھا تو دستگیر کے لفظ سے اس کی مراد حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی ہی تھے مگر اس نے میرے اندر شرک کے خلاف جوش دیکھ کر بات بدل لی اور کہہ دیا ”مولا خدا کے سوا بھی کوئی دستگیر ہے " پس بعض اوقات ایک نام مشترک ہوتا ہے یعنی وہی نام کسی بندے کا بھی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا بھی ہوتا ہے جیسے عبد القادر صاحب جیلانی کو بھی لوگ دستگیر کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو بھی دستگیر کہا جا سکتا ہے اور ایسا نام سننے والا بھی کسی طرف دھیان کرتا ہے اور کبھی کسی طرف۔کبھی تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ جو نام لیا گیا ہے یہ کسی انسان کا ہے اور کبھی وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نام خدا تعالیٰ کا ہے۔اسی طرح حضرت بابا فرید گنج والے بھی مشہور ہیں۔وہ حضرت خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی کے شاگر دتھے ان کا مزار پا کپٹن میں ہے اور وہاں ایک بہت بڑا دروازہ بنا ہوا ہے سال میں ایک دفعہ ان کے مرید وہاں جمع ہوتے ہیں اور کنجی لگا کر اس دروازہ کو کھولتے ہیں اور لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ جو شخص اس دروازے سے گزر جائے گاوہ بہشتی ہو جائے گا۔سب سے پہلے بزرگ جو ہندوستان میں آئے اور جنہوں نے تبلیغ اسلام کی وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب اجمیری تھے ان سے کسب کمال اور علم حاصل کر کے حضرت خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی نے دہلی میں تبلیغ اسلام شروع کی۔دہلی میں قطب صاحب کی جو لاٹ ہے وہ انہی کے نام سے منسوب ہے گویا لاٹ انہوں نے بنوائی نہیں بلکہ اسے ایک بادشاہ نے تیار کرایا تھا مگر ان کی مشہوری کی وجہ سے عوام یہی سمجھتے ہیں کہ یہ لاٹ انہی کی ہے۔حضرت خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی سے ہی حضرت خواجہ فرید الدین صاحب شکر گنج نے استفادہ کیا اور دین سیکھ کر پاک پین چلے آئے اور یہاں آکر انہوں نے اسلام پھیلانے کا کام شروع کیا۔اس وقت دہلی میں اسلام قائم ہو چکا تھا۔حضرت خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء