رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 356
356 اگر وہ جست کی چادر پر گرتا تو زور سے آواز آتی۔میرے ساتھ میاں بشیر احمد صاحب ہیں یا کوئی اور آدمی یہ اچھی طرح یاد نہیں رہا۔بہر حال میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ چھلانگ لگانے والا کہاں گیا۔انہوں نے کہا چھت پر پہنچ گیا ہے۔اس کے بعد لوگوں نے بڑی بلند آواز سے نعرہ لگایا جس کے معنے یہ تھے کہ وہ جیت گئے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ وہ چھلانگ لگانے والا چھت پر سے اثر رہا ہے اس کی لاتیں مجھے چھت پر سے لٹکتی نظر آئیں اس کے بعد یہ نعرہ لگا کہ مسلمان جیت گئے۔میں جب اس اونچی جگہ سے نیچے اترا میں نے دیکھا کہ ایک لڑکی دس بارہ سال کی عمر کی کمرہ میں دوڑتی ہوئی آئی اور اس نے کہنا شروع کیا کانگریس جیت گئی کانگریس جیت گئی۔وہ دیوانی معلوم ہوتی ہے میں اس لڑکی کو دیکھ کر سمجھتا ہوں کہ وہ ہمارے دلی کے کسی عزیز داری والے خاندان میں سے ہے۔میں نے اس کو پکڑ کر پیار سے اپنے سینے سے لگالیا اور کہتا ہوں بی بی ہوش کرو۔بی بی ہوش کرو۔مگر وہ دیوانہ وار جوش سے یہ کہتی جاتی ہے کانگریس جیت گئی کانگریس جیت گئی۔میں سمجھتا ہوں کہ اسے کانگریس سے ہمدردی تھی جب اس نے دیکھا کہ کانگریس ہار گئی تو اس کے دماغ کو صدمہ پہنچ گیا اور اس کے بعد اس کی آواز بند ہو گئی اور اس کا سانس رک گیا۔میں نے اس طرح بیٹھے بیٹھے اس کے ہاتھ اٹھا کر اس کو سانس دلانے کی کوشش کی مگر سانس نہیں آیا اتنے میں ایک عورت جو اس لڑکی کی ماں یا خالہ ہے کمرہ میں داخل ہوئی اور میں نے اس سے کہا اس کا سانس رک گیا ہے اسے لٹا کر سانس دلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس پر اس عورت نے رضامندی ظاہر کی میں نے لڑکی کو زمین پر لٹا کر سانس دلانا شروع کیا مگر اثر نہ ہوا پھر اس عورت نے ٹھنڈے پانی سے تولیہ تر کر کے لڑکی کے پیٹ پر رکھا۔اتنے میں لڑکی نے آنکھ کھولی۔ایک سانس لیا مگر پھر بے ہوش ہو گئی وہ عورت جس کو میں سمجھتا ہوں اس لڑکی کی ماں یا خالہ ہے وہ باتوں سے کچھ سیاسی عورت معلوم ہوتی ہے۔وہ مجھے کہتی ہے میرے خاوند کو آپ جانتے ہیں اور بتایا کہ وہ کو نسل یا کانگریس کے پریذیڈنٹ تھے پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں اسمبلی کی سپیکر رہی ہوں اس کے بعد میں نے کہا ڈاکٹر لطیف صاحب کو بلاؤ شاید وہ لڑکی کو ہوش میں لا سکیں جب کوئی آدمی ان کو بلانے گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیوی امینہ بیگم صاحبہ کو موٹر میں ساتھ لے کر چلے گئے ہیں میں کہتا ہوں کوئی اور ڈاکٹر ہی بلا لاؤ۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔