رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 334

334 بھی ہیں اور غالبا بشری بیگم ہیں۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سامنے ایک پہاڑ ہے اس پہاڑ پر ہمارا کوئی لڑکا رہتا ہے۔اس نے کچھ اخراجات کا مطالبہ کیا ہے اور ہم اسے خرچ دینے جار ہے ہیں یا یہ کہ اس سے حساب کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔جب ہم پہاڑ کے دامن کے پاس پہنچے تو اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے ہم دونوں کے پر نکلے ہوئے ہیں۔بشری بیگم میدان کے ایک طرف ہیں اور میں دوسری طرف ہوں۔پہاڑ کے دامن میں کچھ جھاڑیاں ہیں اور ہم اس سے کوئی پچاس ساٹھ گز پرے ہٹ کر کھڑے ہیں۔ایک ہی وقت میں وہ بھی اپنی جگہ سے اڑتی ہیں اور میں بھی اپنی جگہ سے اڑتا ہوں ہم دونوں کے ہاتھ میں ایک ایک جوتی ہے جب ہم اڑ کر زمین کے پاس آتے ہیں تو وہ جوتی زمین پر زور سے مارتے ہیں اور اس میں کوئی اشارہ مخفی ہے جو خواب میں تو میں سمجھتا ہوں مگر بیداری کے بعد مجھے یاد نہیں رہا اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس جوتی کی آواز کے مقابل پر ہمیں کوئی جواب ملے گا جس سے ہمارے آنے کی غرض پوری ہو جائے گی۔متواتر ہم اسی طرح کرتے چلے جاتے ہیں یعنی جوتی مارتے ہیں پھر دوبارہ اڑ کر جاتے ہیں پھر واپس آتے ہیں پھر اڑ کر جاتے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہ تمام میدان پانی سے بھر گیا اور میری بیوی نے مجھے کہا کہ اب ہمیں واپس چلنا چاہئے۔ہم دونوں اس پانی میں تیرتے ہوئے واپس ہوئے۔میں آگے آگے ہوں اور پیچھے میری بیوی ہیں۔اس وقت تیرتے ہوئے پھر یہ معلوم ہوا کہ جیسے سمندر کا پانی ہے نیلا اور گہرا۔تیرتے ہوئے ایک جگہ پر میں نے کچھ ستی کی اور جس سیدھ میں تیر رہا تھا اس کے نیچے کی طرف جانا شروع ہوا۔اس وقت میں نے معلوم کیا کہ وہاں بڑا گہرا پانی ہے معامیری بیوی نے پیچھے سے مجھے آواز دی کہ یہاں آگے نہایت ہی ٹھنڈا پانی آتا ہے آپ اس طرف سے بچیں اس وقت مجھے خیال آتا ہے کہ پہلے بھی مجھے رویا میں یہ بات بتائی گئی ہے۔بیداری کے بعد میرا ذہن پہلی رؤیا کی طرف منتقل ہوا کہ اس میں بھی اس سے ملتا جلتا نظارہ ہے میں نے اپنی بیوی کی آواز سن کر پھر زور لگایا اور اس جہت میں آگیا جس طرف جانا چاہتا تھا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ یہ سمندریا جھیل جو کچھ بھی ہے ایک بہت بڑی مسجد کے دامن میں ٹکراتی ہے۔وہ مسجد ایسی ہی شاندار بلکہ اس سے بھی زیادہ شاندار ہے جیسے دہلی کی جامع مسجد ہے۔تب ہم دونوں تیر کر اس مسجد کے پاس آئے اور پھر مسجد کی عمارت پر چڑھ گئے۔میں نے اس وقت دیکھا کہ میرے بھی اور میری بیوی کے بھی کپڑے بالکل سوکھے ہیں اور ذرا بھی پانی کا