رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 316
316 سے اس کے غیر احمدی رشتہ دار اسے لینے کے لئے آئے ہیں۔یوں ان میں چھین کرلے جانے کی جرأت تو نہیں لیکن وہ لڑکی پر اثر ڈال کر اسے لے جانا چاہتے ہیں۔راستہ میں ہم ڈاک بنگلے میں اترے ہیں اور چونکہ قافلہ بڑا ہے۔ڈاک بنگلے میں جگہ تھوڑی ہے اس لئے بجائے چارپائیوں کے زمین پر ہی بستر کئے ہیں خواب میں میں دیکھتا ہوں کہ اس عورت کے پاس ایک بچہ بھی ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ میرا ہی ہے جب بستر بچھائے گئے تو بیچ میں میرا بستر ہے۔ایک طرف اس عورت کا بستر ہے اور دوسری طرف ام متین کا بستر ہے اور اس عورت کے رشتہ دار پاس کے ایک ٹیلہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اس عورت کو پیغام بھیجتے ہیں کہ ہمارے ساتھ واپس چلو۔ہم تمہیں لینے کے لئے آئے ہیں۔میں اس وقت خاموش ہوں اور دل میں کہتا ہوں کہ دیکھوں تو کس حد تک احمدیت اس کے دل میں قائم ہو چکی ہے۔میں نے اسے کہا تو نہیں لیکن میں دل میں اسے اجازت دے چکا ہوں اور میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ جاتی ہے تو چلی جائے لیکن اس عورت نے اپنے رشتہ داروں کو یہ جواب دیا ہے کہ میں کس طرح جا سکتی ہوں اب تو میں کسی طرح بھی جانے کو تیار نہیں۔پھر اس کے رشتہ داروں نے اس سے جذباتی باتیں کی ہیں تو ان کے جواب میں وہ ان سے کہتی ہے کہ اب میں کس طرح جا سکتی ہوں اب تو میں نے شادی بھی کرلی ہے اور میرے ہاں لڑکا بھی پیدا ہو گیا ہے اس پر وہ پیغامبرمایوس ہو کر کمرہ سے باہر چلا گیا ہے جب وہ چلا گیا تو میں اس کے اخلاص اور نیکی کی وجہ سے کہ وہ دل سے احمدیت پر قائم ہو چکی ہے اس کو پیار کرتا ہوں۔بچہ اس کی گود میں ہے اور میں اس کے پاس لیٹ گیا ہوں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر تا ہوں۔پیار کرتے ہوئے معا میرے دل میں خیال گزرا کہ اسلام میں تو چار بیویوں کی اجازت ہے اور پہلے ہی میری چار بیویاں موجود ہیں یہ تو پانچویں ہے۔یہ کیا مجھ سے ذھول ہو گیا۔شادی کئے ہوئے ایک سال گزر گیا ہے اور مجھے اس بات کا علم ہی نہیں ہوا۔اس کے ہاں بچہ بھی پیدا ہو گیا۔میں اسے اب طلاق کس طرح دوں۔یہ بیچاری اب کدھر جائے گی۔اس نے اپنے رشتہ دار بھی چھوڑ دیئے مجھے اس کی حالت پر بھی رحم آتا ہے اور میں سخت گھبرا گیا ہوں۔ام متین میرے دل کی بات سمجھ گئی ہیں اور میری گھبراہٹ کے سبب کو جان گئی ہیں (گو میں نے یہ بات بیان نہیں کی اور مجھ سے کہتی ہیں کہ آپ گھبراتے کیوں ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا تو یہ مذہب تھا کہ اسلام میں نو بیویوں تک کی اجازت ہے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ