رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 313

313 لڑتے لڑتے ہم ایک مکان کے پاس پہنچے اور گھوڑوں سے اتر کر اس کے اندر داخل ہو گئے۔اس مکان کے باہر احمدی لشکر کا ایک حصہ کھڑا ہوا معلوم ہو تا ہے۔میں نے اس مکان پر پہنچ کر ان لوگوں کو پھر سمجھانا شروع کیا اور بتایا کہ اسلام کی صحیح تعبیر وہ نہیں جو وہ کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ اس راہ سے دور چلے گئے ہیں جس پر میں نے انہیں ڈالا تھا اور چونکہ تشریح کرنے کا اختیار اللہ تعالی نے مجھے دیا تھا ان کا رویہ نا درست ہے اور ان کو توجہ کرنی چاہئے مگر اس تمام تقریر کا ان پر کچھ اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی ضد پر مصر رہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ میری بات ماننے میں اپنی لیڈری کو خطرہ میں پاتے ہیں اور اس لئے اپنی ضد پر پختہ ہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ اب جبکہ وہ ایک نئے طریق پر جماعت کو ڈال چکے ہیں مجھے بھی ان کی بات مان کر اس کی تصدیق کرنی چاہئے جب میں سمجھا کر تھک گیا تو میں نے ایک دروازہ جو صحن کی طرف کھلتا ہے اور اس جہت کے مخالف ہے جس طرف لوگ بیٹھے تھے کھولا اور اس ارادہ سے نکلا کہ میں اب خود جماعت سے خطاب کروں گا جب میں نے وہ دروازہ کھولا تو اپنی طرف کا دروازہ جلدی سے ان لوگوں نے کھول دیا اور باہر کھڑی ہوئی فوج کو حکم دیا کہ مجھے قتل کر دیں جب میں دروازہ کھول کر نکلا تو میں نے دیکھا کہ مکان کی کرسی اونچی ہے اور صحن تک چار پانچ سیڑھیاں اتر کر جانا پڑتا ہے اور سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی پر وہ کی دیوار ہے جس کے ساتھ فوج قطار در قطار صحن میں کھڑی ہے اور ان کا سینہ تک کا جسم دیوار پر سے نظر آتا ہے اور پوری طرح مسلح ہے۔جس وقت میں نکلا تو اس وقت یوں معلوم ہوا کہ تین چار آدمی میرے ساتھ بھی ہیں میں نے ایک دو سیڑھی اتر کر فوج کی طرف منہ کیا اس وقت دیوار کے ساتھ کی قطار نے میری طرف منہ کیا اور ان جرنیلوں کے حکم کے ماتحت مجھ پر حملہ کرنا چاہا اس وقت میں نے سینہ تان دیا اور ان لوگوں سے کہا۔سپاہیو! تمہارا اصل کمانڈر میں ہوں (میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ میں دوبارہ دنیا میں آیا ہوں اس لئے میں اپنا تعارف ان سے کرا دوں تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ میں کون ہوں) کیا تم اپنے کمانڈر پر حملہ کرنے کی جرات کرو گے۔اس سے سپاہی کچھ گھبرا سے گئے اور حملہ میں متردد ہو گئے مگر دوسری طرف سے ان کے جرنیل انکو انگیخت کرتے چلے گئے تب میں نے اپنے دو تین ساتھیوں سے کہا کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کریں۔انہوں نے تکبیر کا نعرہ لگایا لیکن فوج کے ہجوم اور آوازوں کی بھنبھناہٹ کی وجہ سے آواز میں گونج نہیں پیدا ہوئی۔پھر بھی کچھ لوگ متاثر