رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 298
298 کمزوری کی وجہ سے مجھ تک نہیں پہنچ سکتا اور زمین پر گرنے لگتا ہے کہ میں اس کے آگے اپنا ہاتھ کر دیتا ہوں اور وہ میرے انگوٹھے پر اس طرح بیٹھ جاتا ہے جس طرح لوگ شکرے کو بٹھاتے ہیں۔جب میں دیوار تک پہنچ کر واپس لوٹا اور میز کے قریب پہنچا تو وہ پھر اڑ کر میز پر چلا گیا اور کچھ اور کھایا اب وہ پہلے سے زیادہ بڑا معلوم ہونے لگا۔جب میں ٹہلتا ہوا پھر دیوار کی طرف گیا تو پھر وہ اڑ کر میز پر چلا گیا اور کچھ اور کھایا۔اب وہ پہلے سے زیادہ بڑا معلوم ہونے لگا۔جب میں ٹہلتا ہوا پھر دیوار کی طرف گیا تو پھر وہ اڑ کر میز پر چلا گیا اور کچھ اور کھایا۔اب وہ پہلے سے زیادہ بڑا معلوم ہونے لگا۔جب میں ٹہلتا ہوا پھر دیوار کی طرف گیا تو پھر وہ اڑ کر میری طرف آیا۔ام متین نے پھر آواز دی کہ وہ آپ کی طرف آرہا ہے میں نے پھر اس کو اپنے انگوٹھے پر لے لیا مگر اب کی مرتبہ دقت نہیں ہوئی اور میں نے اپنا انگوٹھا اس طرح اس کے سامنے کر دیا جس طرح باز اور شکرہ کے شکاری کرتے ہیں اور وہ میرے ہاتھ پر بیٹھ گیا جب میں پھر دیوار سے لوٹ آیا تو وہ اڑ کر میز پر آگیا چنانچہ تین چار مرتبہ اسی طرح ہو ا حتی کہ آخری مرتبہ جب وہ اڑ کر میری طرف آیا تو زمین پر گرنے لگا مگر میں نے اپنا انگوٹھا آگے کر کے اس کو اس پر لے لیا اور وہ گرتے گرتے بچ گیا اس کے بعد جب پھر میں ملتا ہوا دیوار کے پاس سے لوٹ کر آرہا تھا تو وہ اڑ کر میز کی طرف گیا مگر میں نے دیکھا کہ اس کی پرواز نیچی ہوتی جاتی ہے اس پر میں نے ام متین کو آواز دے کر کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ تھک گیا ہے اس کو پکڑ کر میز پر رکھ دو مگر وہ ان کے قریب جاکر زمین پر گر گیا اس وقت میں نے دیکھا کہ وہ بٹیر انسان کی صورت میں بدل گیا مگر نہایت نحیف اور کمزور اور قد بھی نہایت چھوٹا جیسے ہوتا ہوتا ہے اس نے ایک چھوٹا ساتہ بند پہنا ہوا تھا اور نہایت کمزور معلوم ہوتا تھا اور اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا۔خواب میں بتایا گیا ہے کہ جاپانی قوم اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہے اللہ تعالٰی اس کے دل میں احمدیت کی طرف رغبت پیدا کرے گا اور وہ آہستہ آہستہ پھر طاقت اور قوت حاصل کرے گی اور میری آواز پر اسی طرح لبیک کہے گی جس طرح پرندوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا تھا۔الفضل 19۔اکتوبر 1945ء صفحہ 2-1