رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 265
265 339 4۔جنوری 1945ء فرمایا : کل ہی میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کابل گیا ہوں جس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ وہاں بھی انشاء اللہ احمدیت کی اشاعت کی کوئی صورت پیدا ہو گی میں نے دیکھا کہ میں وہاں گیا ہوں اور وہاں بادشاہ وزراء اور بڑے سرکاری حکام اور بڑے بڑے آدمیوں سے مل چکا ہوں مجھے وہاں گئے دو تین روز ہو چکے ہیں۔الفضل 10۔جنوری 1945 ء صفحہ 8 اوائل جنوری 1945ء 340 فرمایا : پانچ چھ دن کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک بہت بڑے میدان میں کھڑا ہوں اور جس طرف میرا منہ ہے اس کے بالمقابل ایک عمارت ہے اس کی دیواریں اور چھتیں جست کی چادروں کی ہیں اور اس کے بڑے بڑے پھاٹک ہیں جیسا کہ بڑے بڑے سٹیشنوں یا بندرگاہوں پر عمارتیں بنائی جاتی ہیں تاکہ ان میں مال رکھا جائے اس عمارت میں کچھ لوگ کھڑے ہیں جن کے چہرے دور ہونے کی وجہ سے مجھے اچھی طرح نظر نہیں آتے صرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو میں نے پہچانا ہے جو ان کے سامنے کھڑے ہیں۔وہ مجھے دیکھ کر دوڑ کر میری طرف آئے اور کہنے لگے کیا یہ اس طرح ہے؟ ان کا سوال تو مجھے یاد نہیں رہا لیکن انا یاد ہے کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ اس طرح ہے؟ میں نے کہا نہیں۔اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے میرا یہ جواب سن کر وہ واپس چلے گئے۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ گورنمنٹ کے بڑے بڑے آفیسر ز ہیں اور انہوں نے مجھ پر کوئی الزام لگایا ہے اور چوہدری صاحب اس کی تردید کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تم نے ان پر یہ الزام لگایا ہے اور تم جھوٹ بولتے ہو۔اس کے بعد چوہدری صاحب مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ایک جگہ ایسی سیڑھیاں آئیں جیسے سٹیشنوں پر ہوتی ہیں اور ہم نے ان پر چڑھنا شروع کر دیا مگر میرے ذہن میں اس وقت یہ نہیں آتا کہ مجھے چوہدری صاحب کہاں لے جا رہے ہیں اور کیوں لے جا رہے ہیں۔اوپر چڑھ کر ہم کھڑے ہو گئے ابھی ایک دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ چار پانچ مزدور دوڑتے ہوئے آئے ان کو دیکھ کر چوہدری صاحب کہنے لگے وقت پر