رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 249

249 لدھیانوی کے لڑکے پیر محمد منظور صاحب مصنف قاعدہ یسرنا القرآن کے بھائی اور حضرت خلیفہ اول کے سالے ہیں انہوں نے دعوت کی ہے دعوت میری اور کچھ اور دوستوں کی ہے جن میں میر محمد اسحاق صاحب مرحوم اور میاں بشیر احمد صاحب بھی شامل ہیں میں اس وقت یہ خیال بھی نہیں کرتا کہ میر صاحب فوت ہو چکے ہوئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گیارہ بارہ بجے کا وقت ہے اور دوپہر کے کھانے کی دعوت ہے۔میں دعوت پر چلنے کی تیاری کرتا ہوں اور دل میں کہتا ہوں چلیں کہ میرے گھر سے مریم صدیقہ بیگم کہتی ہیں کہ چچا جان کی رائے تو یہ ہے کہ دعوت میں نہ جانا چاہئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میر صاحب مرحوم نے اپنے دو چھوٹے لڑکوں یعنی مسعود احمد اور محمود احمد میں سے کسی ایک کو اپنی بھتیجی کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میری رائے میں اس دعوت میں نہ جانا چاہئے۔میں دعوت کے لئے جانے کے واسطے تیار تھا چھڑی ہاتھ میں تھی مریم صدیقہ بیگم نے یہ کہا۔اس پر میں نے کہا کہ اچھا اگر میر صاحب کی یہ رائے ہے کہ نہیں جانا چاہئے تو میں نہیں جاتا مگر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں نہ جانا چاہئے۔پیر صاحب پرانے صحابی اور مخلص احمدی ہیں ان کے ہاں دعوت پر نہ جانے کی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔میں یہ باتیں کر رہا ہوں اور ٹہلتا بھی جاتا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم مکان کی اوپر کی منزل میں ہیں میں اسی طرح مل رہا تھا کہ نیچے سے میر صاحب مرحوم کی آواز آئی انہوں نے زور سے السلام علیکم کہا میں ان کی آواز کو سن کر سیڑھیوں کی طرف گیا موڑ والی سیڑھیاں معلوم ہوتی ہیں یعنی ایک حصہ بڑھ کر دوسری طرف کو مڑ جاتی ہیں اور درمیان میں زاویہ قائمہ کی طرح زاویہ بنتا ہے میں سیڑھیوں کے دروازہ تک پہنچا تو میر صاحب مرحوم نظر پڑے وہی زندگی والا بشاش چہرہ تھا وہ مجھے دیکھتے ہی بولے کہ دعوت کو دیر ہو رہی ہے میں نے ان سے کہا کہ میں تو آنے کو تیار تھا مگر مریم صدیقہ بیگم نے مجھے بتایا کہ آپ کی رائے یہ ہے کہ نہ جانا چاہئے اس لئے میں رک گیا میر صاحب مرحوم نے کہا کہ نہیں۔اب رائے یہ ہوئی ہے کہ جانا چاہئے اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا بشیر احمد صاحب کا نام بھی لیتے ہیں کہ ان کی رائے بھی یہی ہے کہ جانا چاہئے اس کے ساتھ ہی میں رویا میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ پیرا افتخار احمد صاحب، حافظ روشن علی صاحب مرحوم والے مکان میں رہتے ہیں حالانکہ ان کا مکان جو ہر کی طرف ہے حافظ صاحب مرحوم والے مکان کے دو راستے ہیں ایک تو احمد یہ چوک میں سے ہو کر اور ایک ہمارے مکان