رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 245

کھل گئی۔245 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کی طرف سے کوئی ایسی بات ہونے والی ہے جو خطرہ اور نقصان کا موجب ہو خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے۔الفضل 13۔جولائی 1944ء صفحہ 2-1 8 جولائی 1944ء 312 فرمایا : آج صبح مجھے الہام ہوا افسوس کہ میں نے اسے لکھ نہ لیا اور ایک لفظ بیچ میں سے بھول گیا الہام یہ تھا۔وه باست بد خواہ تھا یا بد کن تھا یہ لفظ بھول گیا کہ بد خواہ تھا یا بد کن مگر اس کا مفہوم یہی تھا کہ شرارت کا اظہار ہو تا تھا) میرے لئے بھی اور سب کے لئے بھی"۔اس کے ساتھ اس شخص کا نام بھی القاء کیا گیا جو ظاہر نہیں کرتا وہ شخص اونٹ کی طرح کینہ ور ہے چونکہ اس کے متعلق تھا " کا لفظ آیا ہے اس لئے ممکن ہے جلد ہی وہ مرجائے اور نقصان نہ پہنچا سکے یا اسے کوئی اور عذاب پہنچے جس سے اس کا شر کمزور پڑ جائے جب کہ میں بتا چکا ہوں جب الہام کی حالت جاتی رہی تو وہ لفظ مجھے یاد تھا بلکہ کئی گھنٹہ یا د رہا مگر شام کے قریب بھول گیا سب کے لئے " کی یہ تقسیم ہوئی کہ اس سے مراد احمد یہ جماعت ہے یعنی وہ ساری جماعت کا اور بالخصوص میرا دشمن ہے اس کے ساتھ اس کا نام بھی بتا دیا گیا وہ ایسا شخص ہے کہ اس کا مجھے سے کوئی خاص تعلق نہیں یعنی معاملات کے لحاظ سے ایسا بے تعلق ہے کہ ذہن میں اس کا نام خود بخود آنے کی کوئی وجہ نہیں۔الفضل 13۔جولائی 1944ء صفحہ 2 " 313 8۔جولائی 1944ء فرمایا : پھر ایک نظارہ دیکھا کہ میں سورۃ فاتحہ بڑی خوش الحانی سے پڑھ رہا ہوں جب میں نصف تک پہنچا تو میری آنکھ کھل گئی مگر تصرف الہی جاری رہا اور باقی حصہ سورۃ فاتحہ کا میں نے جاگتے پڑھا جب ختم کی تو پھر وہ حالت بدل گئی۔الفضل 13۔جولائی 1944ء صفحہ 2