رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 225
225 صرف اس کی ممٹی ذراسی ٹیڑھی ہے اور میں خواب میں ہی ہوں کہ مکان میں اپنی جگہ پر واپس آگیا ہے۔الفضل 10۔مئی 1944 ء صفحہ 5 293 17۔مئی 1944ء فرمایا : آج میں نے رویا میں دیکھا کہ میں کہیں بیٹھا ہوں اس جگہ میری لڑکی امتہ القیوم بھی ہے مگر وہ ایک طرف منہ کر کے اس طرح کھڑی ہے جس طرح آئینہ کے سامنے عورت کھڑی ہوتی ہے مجھے رویا میں آئینہ نظر نہیں آتا۔مگر جس طرح عورتیں آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بال گوندھتی اور ان کو درست کرتی ہیں اسی طرح اس کے ہاتھ بھی اٹھے ہوئے ہیں جیسے وہ اپنے بال درست کر رہی ہے میری طرف اس کی پیٹھ ہے اور دوسری طرف اس کا مونہہ ہے اتنے میں غیب سے میری طرف ایک پیالہ آیا مجھے اس پیالہ کو لانے والا کوئی آدمی نظر نہیں آتا صرف اتنا معلوم ہوا کہ غیب سے ایک پیالہ میرے سامنے آیا ہے اور اس میں حلوہ ہے مجھے کسی کا ہاتھ نظر نہیں آتا البتہ غیب سے جو پیالہ میرے سامنے لایا گیا اس میں مجھے حلوہ پڑا ہوا دکھائی دیا ہے میں نے اس حلوہ کو ذرا سا چکھا ہے یا نہیں چکھا یہ مجھے یاد نہیں رہا مگر بعد کی گفتگو سے نتیجہ نکالتا ہوں کہ میں نے اس حلوہ کو چکھا ہے اس پیالہ کے سامنے آنے کے معابعد میں نے اس پیالہ کو رد کر دیا اس پر وہ پیالہ میرے سامنے سے ہٹ گیا مگر اس کے ہٹتے ہی جیسے آئینہ میں اس کا عکس پڑ جاتا ہے یا قلبی طور پر امتہ القیوم کو القاء ہو جاتا ہے وہ اس کی طرف پیٹھ کر کے اور میری طرف مونہ کر کے کہتی ہے ابا جان آپ نے اس پیالہ کو رد کیوں کر دیا۔گویا میں نے جو حلوہ نہیں کھایا تو اس کے متعلق وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ آپ نے اس کے کھانے سے انکار کیوں کیا ہے میں اس کے جواب میں کہتا ہوں اس میں بہت زیادہ میٹھا تھا پھر میں کہتا ہوں اس میں ایسا ہی میٹھا تھا جیسے بیٹھے کی مٹھائی پر ہوتا ہے اور چونکہ بیٹھے کی مٹھائی کا ذکر آگیا تھا اس لئے میں نے اس کے ساتھ ہی کہا بیٹھے کی مٹھائی پر تو باہر کی طرف میٹھا چڑھا ہوا ہوتا ہے اور اس کے اندر بیٹھا زیادہ تھا۔واقعہ یہ ہے کہ بیٹھے کی مٹھائی بچپن میں مجھے بہت پسند تھی مگر چونکہ اس پر میٹھا زیادہ ہوتا ہے اس لئے میں اس میٹھے کو جھاڑ کر یا چاقو سے کھرچ کر کھایا کرتا تھا یہی مثال میں نے رویا میں دی ہے اور میں نے امتہ القیوم سے کہا ہے کہ اس میں بہت زیادہ میٹھا تھا جیسے بیٹھے کی مٹھائی پر ہوتا ہے اور میں