رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 210

210 278 ایریل 1944ء فرمایا : رویا میں میں نے ایک دفعہ شیطان بھی دیکھا تھا۔میں نے دیکھا کہ میں لیٹا ہوا ہوں کہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا تمہیں بتاؤں شیطان کس طرح حملہ کرتا ہے میں نے کہا بتاؤ اس نے ایک بلی نکالی جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں وہ ابلیس ہے اور اسے کچھ اشارہ کیا وہ بلی میرے پاؤں سے اوپر کی طرف چڑھنی شروع ہوئی جب وہ ٹخنوں سے کچھ اوپر پہنچی تو فرشتہ نے مار کر وہ بلی ہٹادی اور مجھے کہا شیطان جب انسان پر حملہ کرتا ہے تو ابتداء میں تھوڑی دور تک ہی چلتا ہے اور چونکہ انسان کی اس کے ساتھ مناسبت نہیں ہوتی اس لئے فطرت انسانی اس کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے جب فطرت شیطان کے حملے کا مقابلہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ بندے کی مدد کریں چنانچہ وہ اس طرح مارتے ہیں جس طرح میں نے بلی کو مارا ہے اور وہ پرے جاپڑتا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر اسے اشارہ کرتا ہے اور بلی میرے پاؤں پر چڑھنا شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ پنڈلی تک چڑھ جاتی ہے وہ فرشتہ پھر اسے مار کر پرے ہٹا دیتا ہے اور کہتا ہے دوسری دفعہ شیطان پھر انسان پر حملہ کرتا ہے کیونکہ اس کا کام ہی حملہ کرنا ہے اور چونکہ اب اس کا شیطان سے مس ہو چکا ہوتا ہے اس لئے وہ کمزور انسان اس کا اتنا مقابلہ نہیں کر سکتا جتنا مقابلہ اس نے پہلی دفعہ کیا تھا یہاں تک کہ وہ پنڈلی تک چڑھ جاتا ہے اس پر پھر انسان کے دل میں شیطان کے مقابلے کا جوش پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ شیطان کو ہٹا دیں چنانچہ ہم پھر اسے مارتے ہیں یہ کہہ کر وہ بلی کو پھر ہاتھ سے مارتا ہے اور وہ دور پرے جاپڑتی ہے۔اس کے بعد وہ پھر اسے اشارہ کرتا ہے اور اب کی دفعہ بلی اوپر چڑھتے چڑھتے گھٹنوں تک پہنچ جاتی ہے فرشتہ بتاتا ہے کہ اب چونکہ نفس کو شیطان سے اور مناسبت پیدا ہو جاتی ہے اس لئے وہ کچھ اور اونچا چلا جاتا ہے مگر پھر انسان اس کے مقابلہ کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بندے کی مدد کریں اور شیطان کو اس سے دور کریں چنانچہ وہ کہتا ہے اس پر ہم پھر اسے یوں مارتے ہیں یہ کہہ کر وہ پھر بلی کو زور سے مارتا ہے اور وہ پرے جاپڑتی ہے اسی طرح کرتے کرتے آخری دفعہ بلی میری ناف تک پہنچی اس پر وہ کہتا ہے جب شیطان پھر حملہ کرتا ہے تو انسانی فطرت میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ میں تو اب شیطان سے بالکل دینے لگا ہوں چنانچہ وہ پھر اس کے مقابلہ کی جد وجہد کرتا