رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 209

209 یہ بھی ڈاکٹر ہیں اور اس کی میرے ساتھ ملاقات کراتا ہے۔خواب میں میں ایسا سمجھتا ہوں کہ یہ دوسرا نوجوان غالباً اسی دکاندار کا بیٹا ہے۔اس کے بعد وہ مجھے کہتے ہیں آپ ذرا لیٹ جائیں تاکہ ہم آپ کا پیٹ دیکھ لیں گویا دوست بن کر انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ ذرا لیٹ جائیں ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا مرض ہے یا مرض کا سبب کیا ہے۔مجھے اس وقت اچنبھا سا ہوا کہ دکاندار کو اس بات سے کیا غرض ہو سکتی ہے کہ وہ کسی کا پیٹ ٹولے اور اس کا مرض معلوم کرے اس کا کام تو صرف اتنا ہے کہ جو دوائی اس سے مانگی جائے وہ دے دے۔اس کا کام یہ تو نہیں کہ جب اس سے کوئی دوائی لینے کے لئے آئے تو وہ اسے یہ بھی کہے کہ آؤ میں تمہاری بیماری معلوم کروں مگر پھر میں سمجھتا ہوں چونکہ اس کا بیٹا بھی ڈاکٹر ہے اور دوسرا شخص بھی ڈاکٹر ہے اس لئے شاید ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے انہیں احساس پیدا ہوا کہ مجھے دیکھ لیں وہاں ایک چھوٹی سی چارپائی پڑی ہے میں اس پر ذرا ٹیڑھا ہو کر لیٹ گیا۔انہوں نے میرے پیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور جگر کے نچلے حصے اور انتڑیوں کے اوپر کے حصے کو ہاتھ سے ٹول کر دیکھا پہلے ڈاکٹر سید ممتاز حسین نے مجھے دیکھا اس کے بعد لڑکے نے۔مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے اس لڑکے کا نام بھی مجھے بتایا یا نہیں۔بہر حال جب وہ دیکھ چکے تو اس کے بعد میں اٹھا لیکن اس وقت مجھے یہ عجیب بات نظر آئی کہ میرا بٹوہ جیب سے نکل کر باہر پڑا ہوا ہے اور کھلا ہے اس وقت میں کہتا ہوں۔اوہو۔ان کی غرض تو مجھے لٹانے کی یہ تھی کہ جب میں کوٹ اتار کر لیٹ جاؤں تو یہ مجھے کوئی نقصان پہنچائیں میں اس وقت خیال کرتا ہوں کہ شاید اس میں سے کچھ نوٹ غائب ہیں۔ساتھ ہی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ صرف مالی نقصان ہی نہیں یہ لوگ مجھے جسمانی نقصان بھی پہنچانا چاہتے تھے۔چنانچہ میں نے جلدی سے ہوا اپنی جیب میں ڈال لیا اور کوٹ کو بجائے پہننے کے اپنے ہاتھ میں ہی پکڑ کر باہر نکل آیا۔والله اعلم اس نام کا کوئی آدمی لاہور میں ہے یا نہیں اور اس کے کسی اس قسم کے دکاندار سے دوستانہ تعلقات بھی ہیں یا نہیں بہر حال خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ممکن ہے تعبیر ظاہر کے مطابق نہ ہو بلکہ اس میں کوئی مخفی راز ہو اور نام سے بھی کسی اور طرف اشارہ ہو۔الفضل 29۔اپریل 1944ء صفحه 1